مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْبَاقِيَاتِ الصَّالِحَاتِ وَنَحْوِهَا . باب: باقی رہ جانے والی نیکیوں ، اور ان جیسی دوسری چیزوں کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنِ الْحَارِثِ مَوْلَى عُثْمَانَ قَالَ : جَلَسَ عُثْمَانُ يَوْمًا وَجَلَسْنَا مَعَهُ ، فَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ - قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي تَكْفِيرِ الصَّلَاةِ الْمَفْرُوضَةِ لِلذُّنُوبِ - وَقَالَ : " وَهُنَّ الْحَسَنَاتُ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ " . قَالُوا : هَذِهِ الْحَسَنَاتُ ، فَمَا الْبَاقِيَاتُ يَا عُثْمَانُ ؟ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدٍ مَوْلَى عُثْمَانَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے غلام حارث بیان کرتے ہیں : ایک دن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تشریف فرما تھے ، ہم بھی آپ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، مؤذن اُن کے پاس آیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری روایت ذکر کی ہے ، جس میں یہ بات مذکور ہے : ” فرض نماز گناہوں کو ختم کر دیتی ہے ۔ “ آگے چل کر یہ الفاظ ہیں : ” اور یہی وہ نیکیاں ہیں ، جو برائیوں کو ختم کر دیتی ہیں ، لوگوں نے کہا: یہ تو نیکیاں ہوئیں ، تو باقی رہنے والی چیزیں کیا ہیں ؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ یہ کلمات ہیں : «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، وَسُبْحَانَ اللهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ»
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، صرف حارث بن عبد کا معاملہ مختلف ہے جو سیدنا عثمان کا غلام ہے اور وہ ثقہ ہے ۔