حدیث نمبر: 16842
وَعَنْ أَبِي الْمُنْذِرِ الْجُهَنِيِّ قَالَ : قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، عَلِّمْنِي أَفْضَلَ الْكَلَامِ ، قَالَ : " يَا أَبَا الْمُنْذِرِ ، قُلْ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، يُحْيِي وَيُمِيتُ ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، مِائَةَ مَرَّةٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ ، فَإِنَّكَ يَوْمَئِذٍ أَفْضَلُ النَّاسِ عَمَلًا إِلَّا مَنْ قَالَ مِثْلَ مَا قُلْتَ ، وَأَكْثِرْ مِنْ قَوْلِ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ; فَإِنَّهَا سَيِّدُ الِاسْتِغْفَارِ ، وَإِنَّهَا مِمْحَاةٌ لِلْخَطَايَا " . أَحْسَبُهُ قَالَ : " مُوجِبَةٌ لِلْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابومندر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! آپ مجھے افضل کلام کی تعلیم دیجئے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابومندر ! تم یہ پڑھو : «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، يُحْيِي وَيُمِيتُ ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ” اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، وہ یکتا ہے اُس کا کوئی شریک نہیں ہے ، بادشاہی اُسی کے لئے مخصوص ہے ، حمد اسی کے لیے مخصوص ہے ، وہ زندگی دیتا ہے اور وہ موت دیتا ہے ، اور ہر قسم کی بھلائی اُسی کے دست قدرت میں ہے ، اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ۔ “ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) تم روزانہ ایک سو مرتبہ یہ کلمات پڑھ لو ، تو اُس دن میں ، تم عمل کے اعتبار سے لوگوں میں سے سب سے زیادہ فضیلت والے ہو گے ، البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ، جس نے اس کلمے کو اتنی ہی تعداد میں پڑھا ہو ، جتنی تعداد میں تم نے پڑھا ہے ، تم کثرت کے ساتھ «سُبْحَانَ اللهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِالله» پڑھا کرو ! کیونکہ یہ سید الاستغفار ہے ، اور یہ گناہوں کو مٹانے والا ہے ۔ “ راوی کو شک ہے ، شاید روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : ” یہ جنت کو واجب کرنے والے ہیں ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16842
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3073)»