حدیث نمبر: 16834
عَنْ سَلْمَانَ بْنِ الْإِسْلَامِ - يَعْنِي الْفَارِسِيَّ - قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ إِنِّي أُشْهِدُكَ ، وَأُشْهِدُ مَلَائِكَتَكَ ، وَحَمَلَةَ عَرْشِكَ ، وَالسَّمَاوَاتِ وَمِنْ فِيهِنَّ ، وَالْأَرَضِينَ وَمِنْ فِيهِنَّ ، وَأُشْهِدُ جَمِيعَ خَلْقِكَ بِأَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، وَأُكَفِّرُ مَنْ أَبَى ذَلِكَ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ . مَنْ قَالَهَا أَعْتَقَ اللَّهُ ثُلُثَهُ مِنَ النَّارِ ، وَمَنْ قَالَهَا مَرَّتَيْنِ أَعْتَقَ اللَّهُ - تَعَالَى - ثُلُثَيْهِ مِنَ النَّارِ ، وَمَنْ قَالَهَا ثَلَاثًا أُعْتِقُ مِنَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسَنَادَيْنِ ، وَفِي أَحَدِهِمَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصُّوفِيُّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : «اللَّهُمَّ إِنِّي أُشْهِدُكَ ، وَأُشْهِدُ مَلَائِكَتَكَ ، وَحَمَلَةَ عَرْشِكَ ، وَالسَّمَاوَاتِ وَمِنْ فِيهِنَّ ، وَالْأَرَضِينَ وَمِنْ فِيهِنَّ ، وَأُشْهِدُ جَمِيعَ خَلْقِكَ بِأَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، وَأُكَفِّرُ مَنْ أَبَى ذَلِكَ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ» ” اے اللہ ! بے شک میں تجھے گواہ بناتا ہوں اور تیرے فرشتوں کو اور تیرے عرش کو اُٹھانے والوں کو اور آسمانوں اور اُن میں موجود ( یعنی ساری مخلوق کو ) اور زمینوں اور ان میں موجود ( یعنی ساری مخلوق ) کو گواہ بناتا ہوں ، اور میں تیری ساری مخلوق کو گواہ بناتا ہوں کہ بے شک تو اللہ ہے ، تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور پہلے والوں اور بعد والوں میں سے ، جو بھی اُس بات کا انکار کرے ، میں اس کو کافر قرار دیتا ہوں ، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ بے شک سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں ۔ “
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص دو مرتبہ ان کلمات کو پڑھ لے گا اللہ تعالیٰ اس کے دو تہائی وجود کو جہنم سے آزاد کر دے گا اور جو شخص تین مرتبہ ان کلمات کو پڑھ لے گا ، اُسے جہنم سے آزاد کر دیا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک سند میں ایک راوی أحمد بن اسحاق صوفی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16834
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6062 و 6061)»