حدیث نمبر: 16811
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : اخْتَصَمَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلَانِ ، فَوَقَعَتِ الْيَمِينُ عَلَى أَحَدِهِمَا ، فَحَلَفَ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ مَا لَهُ عِنْدِي شَيْءٌ ، فَنَزَلَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " إِنَّهُ كَاذِبٌ ، إِنَّ لَهُ عِنْدَهُ حَقَّةً ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُعْطِيَهُ ، وَكَفَّارَةُ يَمِينِهِ مَعْرِفَتُهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَوْ شَهَادَتُهُ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو آدمیوں نے اپنا مقدمہ پیش کیا ، اُن میں سے ایک پر قسم اُٹھانا لازم ہوا ، تو اس نے اُس اللہ کے نام کا حلف اٹھایا ، جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور یہ کہا: کہ میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بولے : یہ جھوٹ بول رہا ہے ، اس کے ذمہ لازم ادائیگی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو یہ حکم دیا کہ وہ اس ادائیگی کو کرے ، اور اس کی قسم کا کفارہ یہ ہے کہ وہ یہ بات جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ۔ ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) ۔ اُس نے اس بات کی گواہی دی ہے ( یعنی کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ) ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عطا بن سائب ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16811
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (253/1)»