مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ . باب: ’’ لا الہ الا اللہ “ کی فضیلت کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تُوضَعُ الْمَوَازِينُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيُؤْتَى بِالرَّجُلِ فَيُوضَعُ فِي كِفَّةٍ ، وَيُوضَعُ مَا أُحْصِيَ عَلَيْهِ فِي كِفَّةٍ ، فَيَتَمَايَلُ بِهِ الْمِيزَانُ ، فَيُبْعَثُ بِهِ إِلَى النَّارِ " . قَالَ : " فَإِذَا أَدْبَرَ بِهِ إِذَا صَائِحٌ يَصِيحُ مِنْ عِنْدِ الرَّحْمَنِ يَقُولُ : لَا تُعَجِّلُوا لَا تُعَجِّلُوا فَإِنَّهُ قَدْ بَقِيَ لَهُ ، فَيُؤْتَى بِبِطَاقَةٍ فِيهَا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَتُوضَعُ مَعَ الرَّجُلِ فِي كِفَّةٍ حَتَّى يَمِيلَ بِهِ الْمِيزَانُ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن میزان رکھے جائیں گے ، ایک شخص کو لایا جائے گا اور اُسے ایک پلڑے میں رکھا جائے گا ، اور اس کے خلاف جو کچھ ہو گا اُسے شمار کر کے دوسرے پلڑے میں رکھا جائے گا ، تو وہ ( گناہوں والا ) پلڑا بھاری ہو جائے گا ، اس شخص کو جہنم کی طرف بھیجا جائے گا ، جب وہ اُس طرف بڑھے گا تو اسی دوران ” رحمن “ کی طرف سے کوئی کہنے والا بلند آواز میں مخاطب ہو کر کہے گا : تم جلدی نہ کرو ! تم جلدی نہ کرو ! کیونکہ اس کے حق میں ایک چیز باقی ہے ، پھر ایک کاغذ لایا جائے گا جس میں «لا اله الا الله» لکھا ہوا ہو گا ، اُس کو آدمی کے ساتھ اُس کے پلڑے میں رکھا جائے گا تو اُس کا ( نیکیوں والا ) پلڑا بھاری ہو جائے گا ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔