حدیث نمبر: 16804
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ لِلَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - عَمُودًا مِنْ نُورٍ بَيْنَ يَدَيِ الْعَرْشِ ، فَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ اهْتَزَّ ذَلِكَ الْعَمُودُ ، فَيَقُولُ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - : اسْكُنْ ، فَيَقُولُ : كَيْفَ أَسْكُنُ وَلَمْ تَغْفِرْ لِقَائِلِهَا ؟ فَيَقُولُ : إِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُ ، فَيَسْكُنُ عِنْدَ ذَلِكَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے عرش کے آگے ، نور کا ایک ستون بنایا ہے ، جب کوئی بندہ «لَا إِلَهَ إِلَّا الله» پڑھتا ہے تو وہ ستون ہلنے لگتا ہے ، اللہ تعالیٰ اُس سے فرماتا ہے ، تم ٹھہر جاؤ ! تو وہ عرض کرتا ہے : میں کیسے ٹھہر جاؤں ؟ جبکہ تو نے اس کو پڑھنے والے کی مغفرت نہیں کی ہے ، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میں نے اُس کی مغفرت کر دی ہے ، تو اس وقت وہ ستون ٹھہر جاتا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن ابراہیم بن ابوعمرو ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16804
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3066)»