حدیث نمبر: 16764
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا مِنْ قَوْمٍ اجْتَمَعُوا يَذْكُرُونَ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَا يُرِيدُونَ بِذَلِكَ إِلَّا وَجْهَهُ إِلَّا نَادَاهُمْ مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ : أَنْ قُومُوا مَغْفُورًا لَكُمْ ، فَقَدْ بُدِّلَتْ سَيِّئَاتُكُمْ حَسَنَاتٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَيْمُونٌ الْمَرَئِيُّ ، وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب بھی کچھ لوگ اکٹھے ہو کر ، اللہ کا ذکر کرتے ہیں اور وہ اس کے ذریعے صرف اس کی رضامندی چاہتے ہیں ، تو آسمان سے ایک منادی یہ اعلان کرتا ہے : تم ایسی حالت میں اُٹھ جاؤ کہ تمہاری مغفرت ہو چکی ہے ، اور میں نے تمہاری برائیوں کو نیکیوں میں تبدیل کر دیا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ ، امام بزار اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی میمون مرئی ہے جس کو ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، امام أحمد کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16764
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3061) اخرجه ابو يعلى فى المسند (4141) اخرجه احمد في (4141) اخرجه احمد فى المسند (142/3)»