مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ ذِكْرِ اللَّهِ تَعَالَى ، وَالْإِكْثَارِ مِنْهُ باب: اللہ کا ذکر کرنے کی فضیلت اور اُسے زیادہ کرنا
وَعَنْ أُمِّ أَنَسٍ قَالَتْ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : جَعَلَكَ اللَّهُ فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى مِنَ الْجَنَّةِ ، وَأَنَا مَعَكَ ، وَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَلِّمْنِي عَمَلًا صَالِحًا أَعْمَلُهُ ، فَقَالَ : " أَقِيمِي الصَّلَاةَ ; فَإِنَّهَا أَعْظَمُ الْجِهَادِ ، وَاهْجُرِي الْمَعَاصِي ; فَإِنَّهَا أَفْضَلُ الْهِجْرَةِ ، وَاذْكُرِي اللَّهَ كَثِيرًا ; فَإِنَّهُ أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ أَنْ تَلْقَيْنَهُ بِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَقَالَ : أُمُّ أَنَسٍ هَذِهِ لَيْسَتْ أُمَّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، مِنْ طَرِيقِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ ، وَكِلَاهُمَا ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ جَرْحًا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدہ ام انس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ، میں نے عرض کی : اللہ تعالیٰ آپ کو جنت میں رفیق اعلیٰ میں رکھے اور میں آپ کے ساتھ ہوؤں ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کسی ایسے نیک عمل کی تعلیم دیجئے جس پر میں عمل کروں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نماز قائم کرو ! کیونکہ یہ سب سے زیادہ فضیلت والا جہاد ہے اور تم گناہوں سے لاتعلق رہو ! کیونکہ یہ سب سے زیادہ فضیلت والی ہجرت ہے ، اور تم کثرت کے ساتھ اللہ کا ذکر کرو ! کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل ہے کہ تم اُس عمل کے ہمراہ اُس کی بارگاہ میں حاضر ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : سیدہ ام انس رضی اللہ عنہا نامی یہ خاتون ، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی والدہ نہیں ہیں ، انہوں نے
یہ روایت محمد بن اسماعیل انصاری کے حوالے سے ، یونس بن عمران بن ابوانس کے حوالے سے نقل کی ہے ، ابن ابوحاتم نے ان دونوں کا تذکرہ کیا ہے اور انہوں نے اس کے بارے میں کوئی جرح نقل نہیں کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔