❮
❯
حدیث نمبر: 16755
وَعَنْ أُمِّ أَنَسٍ أَنَّهَا قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَوْصِنِي ، قَالَ : " اهْجُرِي الْمَعَاصِيَ ; فَإِنَّهَا أَفْضَلُ الْهِجْرَةِ ، وَحَافِظِي عَلَى الْفَرَائِضِ ; فَإِنَّهَا أَفْضَلُ الْجِهَادِ ، وَأَكْثَرِي مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ ; فَإِنَّكِ لَا تَأْتِينَ اللَّهَ بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ كَثْرَةِ ذِكْرِهِ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نِسْطَاسٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . قُلْتُ : وَهَذِهِ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ .
محمد محی الدین

سیدہ ام انس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے تلقین کیجیے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم گناہوں سے لاتعلق ہو جاؤ ، کیونکہ یہ سب سے زیادہ فضیلت والی ہجرت ہے ، اور تم فرائض باقاعدگی سے سرانجام دو ، کیونکہ یہ سب سے زیادہ فضیلت والا جہاد ہے ، اور تم اللہ تعالیٰ کا ذکر کثرت سے کرو ، کیونکہ تم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کوئی ایسی چیز پیش نہیں کرو گی ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کے کثرت سے ذکر سے زیادہ پسندیدہ ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم بن نسطاس ہے اور وہ ضعیف ہے ، میں یہ کہتا ہوں : یہ خاتون سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16755
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (129/25) ، أخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 6818»