مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ ذِكْرِ اللَّهِ تَعَالَى ، وَالْإِكْثَارِ مِنْهُ باب: اللہ کا ذکر کرنے کی فضیلت اور اُسے زیادہ کرنا
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ : أَنَّهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا عَمِلَ آدَمِيٌّ عَمَلًا أَنْجَى لَهُ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ " . ¤ وَقَالَ مُعَاذٌ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ أَعْمَالِكُمْ لَكُمْ ، أَزْكَاهَا عِنْدَ مَلِيكِكُمْ ، وَأَرْفَعُهَا فِي دَرَجَاتِكُمْ ، وَخَيْرٌ لَكُمْ مِنْ تَعَاطِي الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ ، وَمِنْ أَنْ تَلْقَوْا عَدُوَّكُمْ غَدًا فَتَضْرِبُوا أَعْنَاقَهُمْ ، وَيَضْرِبُوا أَعْنَاقَكُمْ ؟ " . قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " ذِكْرُ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ زِيَادَ بْنَ أَبِي زِيَادٍ مَوْلَى ابْنِ عَيَّاشٍ لَمْ يُدْرِكْ مُعَاذًا . ¤سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” آدمی کوئی ایسا عمل نہیں کرتا ، جو اس کے لیے اللہ تعالیٰ کے ذکر سے زیادہ ، اللہ کے عذاب سے نجات دلانے والا ہو ۔ “ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں تمہیں تمہارے سب سے بہتر عمل کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ جو تمہارے مالک کے نزدیک زیادہ پاکیزہ ہے اور تمہارے درجات کی بلندی کے لئے زیادہ مناسب ہے ، اور تمہارے لیے سونا چاندی خرچ کرنے سے زیادہ بہتر ہے ، اور اس سے بھی زیادہ بہتر ہے کہ کل تم دشمن کا سامنا کرو ، اور تم اُن کی گردنیں اڑاؤ اور وہ تمہاری گردنیں اُڑائیں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کا ذکر کرنا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، البتہ ابن عیاش کے غلام زیاد بن ابوزیاد نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔