مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ ذَمَّ مِنَ الْقَبَائِلِ وَأَهْلِ الْبِدَعِ . باب: کن قبائل کی اور اہل بدعت کی مذمت کی گئی ہے ؟
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْأَصَمِّ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - وَهُوَ فِي دَارِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ فَقُلْنَا : إِنَّ نَاسًا يَزْعُمُونَ أَنَّ عَلِيًّا يَرْجِعُ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، فَضَحِكَ وَقَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ! لَوْعَلِمْنَا ذَلِكَ مَا زَوَّجْنَا نِسَاءَهُ ، وَلَا تَسَاهَمْنَا مِيرَاثَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَعَمْرٌو لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤عمرو بن اصم بیان کرتے ہیں : وہ سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے وہ اُس وقت عمرو بن حریث کے گھر میں موجود تھے ، ہم نے کہا: کچھ لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ قیامت کے دن سے پہلے دنیا میں واپس تشریف لائیں گے ، تو سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ ہنس پڑے اور انہوں نے فرمایا : سبحان اللہ ! اگر ہمیں اس بات کا علم ہوتا تو ہم نے ان کی ازواج کو دوسری شادی نہیں کرنے دینی تھی اور نہ ہی ان کی وراثت آپس میں تقسیم کرنی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، عمرو نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔