مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ ذَمَّ مِنَ الْقَبَائِلِ وَأَهْلِ الْبِدَعِ . باب: کن قبائل کی اور اہل بدعت کی مذمت کی گئی ہے ؟
وَعَنْ أَبِي الْقَيْنِ : أَنَّهُ مَرَّ بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ شَيْءٌ مِنْ تَمْرٍ ، فَأَهْوَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِيَأْخُذَ مِنْهُ قَبْضَةً لِيَنْشُرَهَا بَيْنَ يَدَيْ أَصْحَابِهِ ، فَضَمَّ طَرَفَ رِدَائِهِ إِلَى بَطْنِهِ وَإِلَى صَدْرِهِ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " زَادَكَ اللَّهُ شُحًّا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ جَمْهَانَ ، وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ ، وَفِيهِ خِلَافٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ابوالقین کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ایک مرتبہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا ، اس وقت اُس کے پاس کچھ کھجوریں موجود تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ بڑھایا تاکہ اُس سے مٹھی بھر کھجوریں لے کر اپنے اصحاب کے سامنے پھیلا دیں ، تو اس نے اپنی چادر کا کنارہ اپنے پیٹ اور اپنے سینے کے ساتھ لگا لیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا : اللہ تعالی تمہارے بخل میں اضافہ کرے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سعید بن جمہان ہے ، ایک جماعت نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔