مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ ذَمَّ مِنَ الْقَبَائِلِ وَأَهْلِ الْبِدَعِ . باب: کن قبائل کی اور اہل بدعت کی مذمت کی گئی ہے ؟
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يُبْغِضُ الْأَنْصَارَ رَجُلٌ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ، وَلَا يُحِبُّ ثَقِيفًا رَجُلٌ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ " . قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ ، غَيْرَ ذِكْرِ ثَقِيفٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَيْخِ الطَّبَرَانِيِّ : يَحْيَى بْنِ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ السَّهْمِيِّ ، وَهُوَ صَدُوقٌ ، وَفِيهِ خِلَافٌ لَا يَضُرُّ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ایسا شخص انصار سے بغض نہیں رکھے گا ، جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور ایسا شخص ثقیف سے محبت نہیں رکھے گا ، جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے ثقیف کا ذکر نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف امام طبرانی کے استاد یحیی بن عثمان بن صالح سہمی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ صدوق ہے ، اس کے بارے میں ایسا اختلاف پایا جاتا ہے جو نقصان دہ نہیں ہے ۔