حدیث نمبر: 16736
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ : أَنَّهُ قَامَ فِي بَابٍ دَاخِلٍ فِيهِ إِلَى الْمَسْجِدِ - مَسْجِدِ مِنًى - ، فَحَمِدَ اللَّهَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ هَؤُلَاءِ الْأَعْبُدِ الْكُفَّارِ الْفُسَّاقِ قَدْ عَمَدُوا عَلَيَّ ، قَالَ : وَذَكَرَ الْحَدِيثَ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ فُرَاتُ بْنُ الْأَحْنَفِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي أَوَّلِ كِتَابِ الْعِتْقِ مَنْ أَخْرَجَ صَدَقَتَهُ ، فَلَمْ يَجِدْ إِلَّا بَرْبَرِيًّا فَلْيَرُدَّهَا ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ وَحَدِيثُ : " إِنَّ الْإِيمَانَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ " . وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ وَفِي كِتَابِ الْخِلَافَةِ وَكِتَابِ الْفِتَنِ فِي بَنِي الْحَكَمِ وَغَيْرِهِمْ مَا يُغْنِي عَنْ إِعَادَتِهِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ اُس دروازے پر کھڑے ہوئے تھے جس میں سے مسجد میں ۔ یعنی منیٰ کی مسجد میں ۔ داخل ہوا جاتا ہے ، انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور پھر یہ فرمایا : ” بے شک ان غلاموں ، کافروں اور فاسقوں نے مجھ پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا ہے ۔ “ راوی کہتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے پوری روایت ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی فرات بن احنف ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ اس سے پہلے غلام آزاد کرنے سے متعلق کتاب کے آغاز میں یہ بات گزر چکی ہے کہ جو شخص صدقہ کرنے کے لئے کوئی چیز نکالے اور پھر اسے صدقہ لینے والا شخص ، صرف کوئی بربری ملے تو وہ اس صدقے کو واپس لے جائے ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اس روایت کے رجال ” ثقہ “ ہیں ، اسی طرح ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ایمان اُن کے حلق سے نیچے نہیں جائے گا ۔ “ اور
یہ روایت ضعیف ہے ، اسی طرح کتاب الخلافۃ اور کتاب الفتن میں بنو حکم اور دوسرے لوگوں کے بارے میں ایسی روایات مذکور ہیں ، جنہیں دہرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16736
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (6821)»