مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي فَضْلِ الْأُمَّةِ . باب: اس امت کی فضیلت کا مزید بیان
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " كُلُّكُمْ فِي الْجَنَّةِ إِلَّا مَنْ شَرَدَ عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - شِرَادَ الْبَعِيرِ عَلَى أَهْلِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرَوَاهُ فِي الْكَبِيرِ مَوْقُوفًا عَلَى أَبِي أُمَامَةَ . قَالَ : لَا يَبْقَى أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ شَرَدَ عَلَى اللَّهِ كَشِرَادِ الْبَعِيرِ السُّوءِ عَلَى أَهْلِهِ ، فَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْنِي ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ : " لَا يَصْلَاهَا إِلَّا الْأَشْقَى الَّذِي كَذَّبَ وَتَوَلَّى " كَذَّبَ بِمَا جَاءَ بِهِ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَتَوَلَّى عَنْهُ . وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ . ¤سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تم سب جنت میں جاؤ گے ، البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے جو اللہ تعالیٰ کے سامنے یوں سرکشی کا مظاہرہ کرتا ہے ، جس طرح اونٹ اپنے مالکان کے سامنے سرکشی کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے انہوں نے اسے معجم کبیر میں ، سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ پر ” موقوف “ روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، اس روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” اس اُمت میں سے کوئی باقی نہیں رہے گا مگر یہ کہ وہ جنت میں داخل ہو جائے گا ، البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے جو اللہ تعالیٰ کے سامنے یوں سرکشی کا اظہار کرتا ہے جس طرح کوئی برا ( یعنی سرکش ) اونٹ اپنے مالکان کے سامنے سرکشی کرتا ہے ، جو شخص میری بات کی تصدیق نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ” اس ( یعنی جہنم ) میں صرف کوئی بدنصیب ہی جائے گا ۔ “ اس سے مراد یہی ہے کہ وہ اس چیز کو جھٹلا دے جو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے ہیں ، اور وہ اُس سے منہ موڑنے والا ہو ۔ ان دونوں روایات کی سند حسن ہے ۔