مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي فَضْلِ الْأُمَّةِ . باب: اس امت کی فضیلت کا مزید بیان
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ خَالِدٍ : أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ مَرَّ عَلَى خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ فَسَأَلَهُ عَنْ أَلْيَنِ كَلِمَةٍ سَمِعَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَلَا كُلُّكُمْ يَدْخُلُ الْجَنَّةِ إِلَّا مَنْ شَرَدَ عَلَى اللَّهِ شِرَادَ الْبَعِيرِ عَلَى أَهْلِهِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَلِيِّ بْنِ خَالِدٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤علی بن خالد بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کا گزر خالد بن یزید بن معاویہ کے پاس سے ہوا ، تو خالد نے اُن سے اُس سب سے نرم کلمہ کے بارے میں دریافت کیا جو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنا ہو ، تو انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” خبردار ! تم سب لوگ جنت میں داخل ہو جاؤ گے ، البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے جو اللہ تعالیٰ کے سامنے یوں سرکشی کا مظاہرہ کرتا ہے جس طرح اونٹ اپنے مالکان کے سامنے سرکشی کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال “” “” صحیح “” “” کے رجال ہیں ، صرف علی بن خالد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔