مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ آمَنَ بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَمْ يَرَهُ . باب: ان لوگوں کے بارے میں جو منقول ہے ، جو نبی اکرم ﷺ پر ایمان لائیں گے لیکن انہوں نے آپ کو دیکھا نہیں ہو گا
وَعَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُهَنِيِّ قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَلَعَ رَاكِبَانِ ، فَلَمَّا رَآهُمَا قَالَ : " كِنْدِيَّانِ مَذْحَجِيَّانِ " . حَتَّى إِذَا أَتَيَاهُ فَإِذَا رِجَالٌ مِنْ مَذْحِِجٍ قَالَ : فَدَنَا إِلَيْهِ أَحَدُهُمَا لِيُبَايِعَهُ ، قَالَ : فَلَمَّا أَخَذَ بِيَدِهِ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ مَنْ رَآكَ فَآمَنَ بِكَ وَصَدَّقَكَ وَاتَّبَعَكَ ، مَاذَا لَهُ ؟ قَالَ : " طُوبَى لَهُ " . فَمَسَحَ عَلَى يَدِهِ وَانْصَرَفَ ، ثُمَّ أَقْبَلَ الْآخَرُ حَتَّى أَخَذَ بِيَدِهِ لِيُبَايِعَهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ ، مَنْ آمَنَ بِكَ وَصَدَّقَكَ وَاتَّبَعَكَ وَلَمْ يَرَكَ ؟ قَالَ : " طُوبَى لَهُ ، ثُمَّ طُوبَى لَهُ ثُمَّ طُوبَى لَهُ " . قَالَ : فَمَسَحَ عَلَى يَدِهِ وَانْصَرَفَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، وَقَدْ صَرَّحَ بِالسَّمَاعِ . ¤سیدنا ابوعبدالرحمن جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، اسی دوران دو سوار سامنے آئے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو دیکھا تو آپ نے فرمایا : یہ دونوں کندی اور مذحجی ہیں ، یہاں تک کہ وہ دونوں آپ کے پاس آ گئے تو ان کا تعلق مذحج قبیلے سے تھا ، راوی بیان کرتے ہیں : ان دونوں میں سے ایک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوا ، تاکہ آپ کی بیعت کرے ، جب اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ لیا تو اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ کہ جو شخص آپ کو دیکھے ، آپ پر ایمان لائے اور آپ کی تصدیق کرے اور آپ کی پیروی کرے تو اسے کیا ملے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کے لیے مبارکباد ہے ، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر ہاتھ پھیرا اور واپس چلا گیا ، پھر دوسرا شخص آگے آیا ، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کرنے کے لئے آپ کا ہاتھ پکڑا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس بارے آپ کی کیا رائے ہے ؟ کہ جو شخص آپ پر ایمان لائے آپ کی تصدیق کرے اور آپ کی پیروی کرے اور اس نے آپ کو نہ دیکھا ہو ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کے لیے مبارکباد ہے ، اس کے لیے مزید مبارکباد ہے ، اس کے لیے مزید مبارکباد ہے ۔ راوی کہتے ہیں : تو اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر ہاتھ پھیرا ، اور واپس چلا گیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف محمد بن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے اور اس نے سماع کی صراحت کی ہے ۔