حدیث نمبر: 16699
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَنَّ رَجُلًا قَالَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، طُوبَى لِمَنْ رَآكَ وَآمَنَ بِكَ ، قَالَ : " طُوبَى لِمَنْ رَآنِي وَآمَنَ بِي ، ثُمَّ طُوبَى ، ثُمَّ طُوبَى ، ثُمَّ طُوبَى لِمَنْ آمَنَ بِي وَلَمْ يَرَنِي " . قَالَ لَهُ رَجُلٌ : وَمَا طُوبَى ؟ قَالَ : " شَجَرَةٌ فِي الْجَنَّةِ مَسِيرَةُ مِائَةِ عَامٍ ، ثِيَابُ أَهْلِ الْجَنَّةِ تَخْرُجُ مِنْ أَكْمَامِهَا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : ” ایک شخص نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! اس شخص کے لیے مبارکباد ہے ، جس نے آپ کی زیارت کی اور وہ آپ پر ایمان لایا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس شخص کے لیے مبارکباد ہے ، جس نے میری زیارت کی اور مجھ پر ایمان لایا اور اس کے لیے مبارکباد ہے ، اور مزید مبارکباد ہے ، اور مزید مبارکباد ہے ، جو مجھ پر ایمان لایا اور اس نے مجھے نہ دیکھا ہو ، اس شخص نے آپ کی خدمت میں عرض کی : طوبیٰ سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جنت میں موجود ایک درخت ہے ، جس کی مسافت 100 سال کی ہے ، اور اہل جنت کے کپڑے اس کی ٹہنیوں سے نکلتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16699
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن لغيرہ
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (1374) اخرجه احمد فى المسند (71/3)»