حدیث نمبر: 16697
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَدِدْتُ أَنِّي لَقِيتُ إِخْوَانِي قَالَ فَقَالَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَوَلَيْسَ نَحْنُ إِخْوَانَكَ ؟ قَالَ : أنَتُمْ أَصْحَابِي وَلَكَنْ إِخْوَانِي الَّذِينَ آمَنُوا بِي وَلَمْ يَرَوْنِي " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَلَفْظُهُ : " وَمَتَى أَلْقَى إِخْوَانِي ؟ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَسْنَا إِخْوَانَكَ ؟ قَالَ : " بَلْ أَنْتُمْ أَصْحَابِي ، وَإِخْوَانِي الَّذِينَ آمَنُوا بِي وَلَمْ يَرَوْنِي " . ¤ وَفِي رِجَالِ أَبِي يَعْلَى مُحْتَسِبٌ : أَبُو عَائِذٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ عَدِيٍّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْفَضْلِ بْنِ الصَّبَاحِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ جِسْرٌ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحْتَسِبٍ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری یہ خواہش تھی کہ میں اپنے بھائیوں سے ملاقات کر لیتا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے عرض کی : کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ میرے اصحاب ہو ، میرے بھائی وہ لوگ ہوں گے ، جو مجھ پر ایمان لائیں گے ، حالانکہ انہوں نے مجھے دیکھا نہیں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، ان کے الفاظ یہ ہیں : ” میں کب اپنے بھائیوں سے ملوں گا ؟ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بلکہ تم میرے اصحاب ہو ، میرے بھائی وہ لوگ ہوں گے جو مجھ پر ایمان لائیں گے ، حالانکہ انہوں نے مجھے دیکھا نہیں ہو گا ۔ “
امام ابویعلیٰ کے رجال میں ایک راوی محتسب ابوعائذ ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ابن عدی نے اسے ضعیف کہا: ہے ، ابویعلیٰ کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف فضل بن صباح کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ، امام أحمد کی سند میں ایک راوی ” جسر “ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف ” محتسب “ کا معاملہ مختلف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16697
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (3390) اخرجه احمد فى المسند (155/3)»