حدیث نمبر: 16692
وَعَنْ صَالِحِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ : قَدِمَ عَلَيْنَا أَبُو جُمُعَةَ الْأَنْصَارِيُّ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْتَ الْمَقْدِسِ لِيُصَلِّيَ فِيهِ ، وَمَعَنَا رَجَاءُ بْنُ حَيْوَةَ يَوْمَئِذٍ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ خَرَجْنَا مَعَهُ لِنُشِيِّعَهُ ، فَلَمَّا أَرَدْنَا الِانْصِرَافَ قَالَ : إِنَّ لَكُمْ عَلَيَّ جَائِزَةً ، وَحَقًّا أَنْ أُحَدِّثَكُمْ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُلْنَا : هَاتِ - رَحِمَكَ اللَّهُ - فَقَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ عَاشِرُ عَشْرَةٍ ، قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ مَنْ قَوْمٍ أَعْظَمُ مِنَّا أَجْرًا ؟ آمَنَّا بِكَ وَاتَّبَعْنَاكَ . قَالَ : " مَا يَمْنَعُكُمْ مِنْ ذَلِكَ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ ؟ ! يَأْتِيكُمُ الْوَحْيُ مِنَ السَّمَاءِ . بَلَى قَوْمٌ يَأْتُونَ مِنْ بَعْدِكُمْ ، يَأْتِيهِمْ كِتَابٌ بَيْنَ لَوْحَيْنِ ، فَيُؤْمِنُونَ بِهِ ، وَيَعْمَلُونَ بِمَا فِيهِ ، أُولَئِكَ أَعْظَمُ مِنْكُمْ أَجْرًا ، أُولَئِكَ أَعْظَمُ مِنْكُمْ أَجْرًا ، أُولَئِكَ أَعْظَمُ مِنْكُمْ أَجْرًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَاخْتُلِفَ فِي رِجَالِهِ . ¤
محمد محی الدین

صالح بن جبیر بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی سیدنا ابوجمعہ انصاری ہمارے پاس بیت المقدس تشریف لائے تاکہ وہ وہاں نماز ادا کریں اس وقت ہمارے ساتھ رجاء بن حیوہ بھی موجود تھے جب وہ واپس جانے لگے تو ہم ان کی مشایعت کے لئے ان کے ساتھ چلنے لگے ، جب ہم نے واپس آنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے فرمایا تمہارا میرے ذمہ حصہ اور حق ہے کہ میں تمہیں ایک ایسی حدیث بیان کروں جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے ، ہم نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے ! آپ بیان کیجیے ، تو انہوں نے بتایا : ” ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، ہمارے ساتھ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سمیت دس افراد تھے ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا کوئی ایسی قوم ہے جسے ہم سے زیادہ اجر ملے گا جب کہ ہم آپ پر ایمان لائے ہیں ہم نے آپ کی پیروی کی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس حوالے سے تمہارے لئے کیا رکاوٹ تھی ؟ جبکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے درمیان موجود ہیں ، آسمان سے وحی تمہارے پاس آتی ہے ، بلکہ ایک قوم ہو گی جو تمہارے بعد آئے گی ، ان کے پاس دو لوچوں کے درمیان موجود کتاب آئے گی ، وہ اس پر ایمان لائیں گے اور اس میں موجود احکام پر عمل کریں گے انہیں تم سے زیادہ اجر ملے گا انہیں تم سے زیادہ اجر ملے گا انہیں تم سے زیادہ اجر ملے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کے رجال کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16692
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ مختلف فیہ
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3540)»