حدیث نمبر: 16691
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَيُّ الْخَلْقِ أَعْجَبُ إِيمَانًا ؟ " . قَالُوا : الْمَلَائِكَةُ ، قَالَ : " الْمَلَائِكَةُ كَيْفَ لَا يُؤْمِنُونَ ؟ ! " . قَالُوا : النَّبِيُّونَ ، قَالَ : " النَّبِيُّونَ يُوحَى إِلَيْهِمْ ، فَكَيْفَ لَا يُؤْمِنُونَ ؟ ! " . قَالُوا : الصَّحَابَةُ ، قَالَ : " الصَّحَابَةُ مَعَ الْأَنْبِيَاءِ ، فَكَيْفَ لَا يُؤْمِنُونَ ؟ ! وَلَكِنَّ أَعْجَبَ النَّاسِ إِيمَانًا قَوَّمَ يَجِيئُونَ مِنْ بَعْدِكُمْ فَيَجِدُونَ كِتَابًا مِنَ الْوَحْيِ ، فَيُؤْمِنُونَ بِهِ وَيَتَّبِعُونَهُ ، فَهُمْ أَعْجَبُ النَّاسِ إِيمَانًا - أَوِ الْخَلْقِ إِيمَانًا - " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ : غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ ، قُلْتُ : فِيهِ سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ ، وَقَدِ اخْتُلِفَ فِيهِ ، فَوَثَّقَهُ قَوْمٌ ، وَضَعَّفَهُ آخَرُونَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کون سی مخلوق ایمان کے حوالے سے زیادہ حیران کن ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : فرشتے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : فرشتے کیسے ایمان نہ لائیں ؟ لوگوں نے عرض کی ! نبی ( ہوں گے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : انبیاء کی طرف وحی ہوتی ہے ، وہ کیسے ایمان نہ لائیں ؟ لوگوں نے عرض کی : صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ( ہوں گے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : صحابہ ، انبیاء کے ساتھ ہوتے ہیں ، وہ کیسے ایمان نہ لائیں ؟ ایمان کے حوالے سے لوگوں میں سب سے زیادہ حیران کن وہ لوگ ہوں گے جو تمہارے بعد آئیں گے اور وہ وحی سے متعلق کتاب پائیں گے اور اس پر ایمان لائیں گے اور اس کی پیروی کریں گے وہ ایمان کے حوالے سے لوگوں میں ۔ ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) ۔ مخلوق میں سب سے زیادہ حیران کن ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے کی ہے ، وہ کہتے ہیں : سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ہونے کے حوالے سے
یہ روایت غریب ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس روایت کی سند میں ایک راوی سعید بن بشیر ہے جس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، ایک قوم نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دوسرے لوگوں نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16691
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2840)»