مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ آمَنَ بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَمْ يَرَهُ . باب: ان لوگوں کے بارے میں جو منقول ہے ، جو نبی اکرم ﷺ پر ایمان لائیں گے لیکن انہوں نے آپ کو دیکھا نہیں ہو گا
- وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ فَقَالَ : عَنْ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " أَخْبَرُونِي بِأَعْظَمِ الْخَلْقِ عِنْدَ اللَّهِ مَنْزِلَةً يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . قَالُوا : الْمَلَائِكَةُ ، قَالَ : " وَمَا يَمْنَعُهُمْ مَعَ قُرْبِهِمْ مِنْ رَبِّهِمْ ، بَلْ غَيْرُهُمْ ؟ " . قَالُوا : الْأَنْبِيَاءُ ، قَالَ : " وَمَا يَمْنَعُهُمْ وَالْوَحْيُ يَنْزِلُ عَلَيْهِمْ ، بَلْ غَيْرُهُمْ " . قَالُوا : فَأَخْبِرْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ! قَالَ : " قَوْمٌ يَأْتُونَ بَعْدَكُمْ ، يُؤْمِنُونَ بِي وَلَمْ يَرَوْنِي ، يَجِدُونَ الْوَرَقَ الْمُعَلَّقَ فَيُؤْمِنُونَ بِهِ ، أُولَئِكَ أَعْظَمُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللَّهِ مَنْزِلَةً - أَوْ أَعْظَمُ الْخَلْقِ إِيمَانًا - عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ وَقَالَ : الصَّوَابُ أَنَّهُ مُرْسَلٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ . وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الْبَزَّارِ الْمَرْفُوعِ حَسَنٌ ، الْمِنْهَالُ بْنُ بَحْرٍ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَفِيهِ خِلَافٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، وہ کہتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم مجھے یہ بتاؤ کہ قیامت کے دن قدر و منزلت کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے زیادہ عظمت والی مخلوق کون سی ہو گی ؟ لوگوں نے عرض کی : فرشتے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان کے لئے کیا رکاوٹ ہے ؟ جبکہ وہ اپنے پروردگار کے قریب ہیں ، بلکہ ان کے علاوہ کوئی اور ہے ، لوگوں نے عرض کی ، نبی ( ہوں گے ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اُن کے لئے کیا رکاوٹ ہے ؟ جبکہ ان پر وحی نازل ہوتی ہے بلکہ ان کے علاوہ اور ہیں ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر آپ ہمیں بتائیے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وہ لوگ جو تمہارے بعد آئیں گے ، وہ مجھ پر ایمان لائیں گے حالانکہ انہوں نے مجھے دیکھا نہیں ہو گا وہ ایک لٹکا ہوا ورق پائیں گے اور اس پر ایمان لے آئیں گے ، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قدر و منزلت کے اعتبار سے ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) - ایمان کے اعتبار سے ، وہ سب سے زیادہ عظمت والے ہوں گے ۔ “ وہ فرماتے ہیں : درست یہ ہے کہ
یہ روایت ” مرسل “ ہے اور زید بن اسلم سے منقول ہے ، امام بزار کی نقل کردہ مرفوع روایت کی دو اسناد میں سے ایک سند حسن ہے اس کی سند میں ایک راوی منہال بن ابجر ہے ، جسے ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔