حدیث نمبر: 16689
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسًا فَقَالَ : " أَنْبَئُونِي بِأَفْضَلِ أَهْلِ الْإِيمَانِ إِيمَانًا ؟ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْمَلَائِكَةُ ، قَالَ : " هُمْ كَذَلِكَ ، يَحِقُّ لَهُمْ ذَلِكَ ، وَمَا يَمْنَعُهُمْ مِنْ ذَلِكَ وَقَدْ أَنْزَلَهُمُ اللَّهُ الْمَنْزِلَةَ الَّتِي أَنْزَلَهُمْ بِهَا ، بَلْ غَيْرُهُمْ ؟ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْأَنْبِيَاءُ الَّذِينَ أَكْرَمَهُمُ اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ وَالنُّبُوَّةِ . قَالَ : " هُمْ كَذَلِكَ ، وَيَحِقُّ لَهُمْ ، وَمَا يَمْنَعُهُمْ مِنْ ذَلِكَ وَقَدْ أَنْزَلَهُمْ اللَّهُ بِالْمَنْزِلَةِ الَّتِي أَنْزَلَهُمْ بِهَا " . ¤ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الشُّهَدَاءُ الَّذِينَ اسْتُشْهِدُوا مَعَ الْأَنْبِيَاءِ ، قَالَ : " هُمْ كَذَلِكَ ، وَيَحِقُّ لَهُمْ ، وَمَا يَمْنَعُهُمْ وَقَدْ أَكْرَمَهُمُ اللَّهُ بِالشَّهَادَةِ ، بَلْ غَيْرُهُمْ " . ¤ قَالُوا : فَمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ! قَالَ : " أَقْوَامٌ فِي أَصْلَابِ الرِّجَالِ ، يَأْتُونَ مِنْ بَعْدِي ، يُؤْمِنُونَ بِي وَلَمْ يَرَوْنِي ، وَيُصَدِّقُونِي وَلَمْ يَرَوْنِي ، يَجِدُونَ الْوَرَقَ الْمُعَلَّقَ فَيَعْمَلُونَ بِمَا فِيهِ ، فَهَؤُلَاءِ أَفْضَلُ أَهْلِ الْإِيمَانِ إِيمَانًا " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ مجھے ان کے بارے میں بتاؤ جو ایمان کے اعتبار سے اہل ایمان میں سب سے زیادہ فضیلت رکھتے ہوں ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! فرشتے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ ایسے ہی ہیں اور انہیں یہ حق ہے کہ وہ ایسے ہوں ، ان کے لئے اس بارے میں کیا چیز رکاوٹ ہو سکتی ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں مخصوص مقام عطا کیا ہے بلکہ ان کے علاوہ کوئی اور ہے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر انبیاء ہوں گے جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت اور نبوت کے ذریعے عزت عطا کی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ ایسے ہی ہیں اور وہ اس کے حقدار ہیں ، ان کے لیے اس بارے میں کیا رکاوٹ ہو سکتی ہے ؟ جبکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں مخصوص مرتبہ و مقام عطا کیا ہے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر وہ شہداء ہوں گے جنہوں نے انبیاء کے ساتھ شہادت کا مرتبہ حاصل کیا ہو گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ ایسے ہی ہیں اور وہ اس کے حقدار ہیں ان کے لیے کیا چیز رکاوٹ ہو سکتی ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں شہادت کے حوالے سے عزت عطا کی ہو ، بلکہ ان کے علاوہ اور لوگ ہیں ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ کون لوگ ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ لوگ جو ابھی مردوں کی پشتوں میں ہیں اور میرے بعد آئیں گے اور مجھ پر ایمان لائیں گے حالانکہ انہوں نے مجھے دیکھا نہیں ہو گا ، وہ میری تصدیق کریں گے حالانکہ انہوں نے مجھے دیکھا نہیں ہو گا ، وہ ایک لٹکا ہوا ورق پائیں گے اور اس میں موجود احکام پر عمل کریں گے ، یہ لوگ ایمان کے حوالے سے اہل ایمان میں سب سے زیادہ فضیلت والے ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16689
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جدا
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (160)»