حدیث نمبر: 16667
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكِ بْنِ بُحَيْنَةَ قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ أَصْحَابِهِ إِذْ قَالَ : " صَلَّى اللَّهُ عَلَى تِلْكَ الْمَقْبَرَةِ " ثَلَاثًا ، قَالَ : فَلَمْ نَدْرِ أَيَّ مَقْبَرَةٍ ، وَلَمْ يُسَمِّ لَهُمْ شَيْئًا . ¤ قَالَ : فَدَخَلَ بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى بَعْضِ أَزْوَاجِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ عَطَّافٌ : فَحُدِّثْتُ أَنَّهَا عَائِشَةُ - فَقَالَ لَهَا : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَكَرَ أَهْلَ مَقْبَرَةٍ فَصَلَّى عَلَيْهِمْ ، وَلَمْ يُخْبِرْنَا أَيَّ مَقْبَرَةٍ هِيَ ؟ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَيْهَا فَسَأَلْتُهُ عَنْهَا فَقَالَ لَهَا : " أَهْلُ مَقْبَرَةٍ بِعَسْقَلَانَ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَلَفْظُهُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْتَغْفَرَ وَصَلَّى عَلَى أَهْلِ مَقْبَرَةٍ بِعَسْقَلَانَ . وَفِي إِسْنَادِ أَبِي يَعْلَى عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكِ بْنِ بُحَيْنَةَ ، وَفِي إِسْنَادِ الْبَزَّارِ مَالِكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُحَيْنَةَ ، وَكِلَاهُمَا لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا ثِقَاتٌ ، وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ يَسِيرٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مالک بن بحینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے درمیان تشریف فرما تھے ، اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ اُن مقبرہ والوں پر رحمت نازل کرے ، یہ کلمات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائے ، راوی کہتے ہیں : ہمیں اندازہ نہیں ہو پایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کون سے قبرستان کو مراد لیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے حوالے سے کوئی نام ذکر نہیں کیا تھا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زوجہ محترمہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، عطاف نامی راوی کہتے ہیں : مجھے یہ بات بتائی گئی ہے کہ وہ زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا تھیں ، اُن صحابی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی قبرستان والوں کا ذکر کر کے اُن کے لیے دعائے رحمت کی ہے ، لیکن ہمیں یہ نہیں بتایا کہ وہ کون سا قبرستان ہے ؟ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لائے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اُس قبرستان کے بارے میں دریافت کیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عسقلان کے قبرستان کے لوگوں ( یعنی وہاں کے بارے میں ، میں نے وہ دعا کی تھی ) ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، ان کے الفاظ یہ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عسقلان کے قبرستان والوں کے لئے دعائے مغفرت کی اور اُن کے لیے دعائے رحمت کی ۔ “ امام ابویعلیٰ کی سند میں ایک راوی علی بن عبداللہ بن مالک بن بحینہ ہے اور امام بزار کی سند میں راوی کا نام مالک بن عبداللہ بن بحینہ ہے اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔ اس کے بعض راویوں کے بارے میں معمولی سا اختلاف پایا جاتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16667
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2853) اخرجه ابو يعلى فى المسند (913)»