حدیث نمبر: 16668
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أُرِيدَ الْغَزْوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، قَالَ : " عَلَيْكَ بِالشَّامِ ; فَإِنَّ اللَّهَ تَكَفَّلَ لِي بِالشَّامِ وَأَهْلِهِ ، وَالْزَمْ فِي الشَّامِ عَسْقَلَانَ ; فَإِنَّهَا إِذَا دَارَتِ الرَّحَا فِي أُمَّتِي كَانَ أَهْلُهَا فِي خَيْرٍ وَعَافِيَةٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ ، وَقَالَ : " إِذَا دَارَتْ رَحَا أُمَّتِي كَانَ أَهْلُهَا فِي رَخَاءٍ وَعَافِيَةٍ " . وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَدَنِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اللہ کی راہ میں جنگ میں حصہ لینا چاہتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم پر شام جانا لازم ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے شام اور اہل شام کے بارے میں مجھے ضمانت دی ہے ، اور تم شام میں ” عسقلان “ میں رہنا ، کیونکہ جب میری امت میں ( فتنوں کی ) چکی گھومے گی ، تو وہاں کے رہنے والے لوگ خیر اور عافیت میں ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” جب میری امت کی چکی گھومے گی تو وہاں کے رہنے والے لوگ خوشحالی اور عافیت میں ہوں گے ۔ “ اس روایت کی سند میں ایک راوی یحیی بن سلیمان مدنی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16668
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (251/18)»