حدیث نمبر: 16666
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَذْكُرُ أَهْلَ مَقْبَرَةٍ يَوْمًا ، قَالَ : فَصَلَّى عَلَيْهَا ، فَأَكْثَرَ الصَّلَاةَ عَلَيْهَا ، قَالَ : فَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْهَا ، فَقَالَ : " أَهْلُ مَقْبَرَةِ شُهَدَاءِ عَسْقَلَانَ يُزَفُّونَ إِلَى الْجَنَّةِ ، كَمَا تُزَفُّ الْعَرُوسُ إِلَى زَوْجِهَا " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ بَشِيرُ بْنُ مَيْمُونٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ” اہل مقبرہ “ کا ذکر کیا ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے لیے دعائے رحمت کی اور ان کے لیے بکثرت دعائے رحمت کی ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے بارے میں دریافت کیا گیا : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اہل مقبرہ ، عسقلان کے شہداء ہیں ، قیامت کے دن انہیں یوں اہتمام کے ساتھ جنت کی طرف لے جایا جائے گا ، جس طرح دلہن کو اس کے شوہر کی طرف لے جایا جاتا ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بشیر بن میمون ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16666
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (175)»