حدیث نمبر: 16665
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عَسْقَلَانُ أَحَدُ الْعَرُوسَيْنِ ، يُبْعَثُ مِنْهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ سَبْعُونَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ ، وَيُبْعَثُ مِنْهَا خَمْسُونَ أَلْفًا شُهَدَاءَ وُفُودًا إِلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَبِهَا صُفُوفُ الشُّهَدَاءِ ، رُءُوسُهُمْ مُقَطَّعَةٌ فِي أَيْدِيهِمْ ، تَثُجُّ أَوْدَاجُهُمْ دَمًا ، يَقُولُونَ : رَبَّنَا آتِنَا مَا وَعَدْتَنَا عَلَى رُسُلِكَ إِنَّكَ لَا تُخَلِفُ الْمِيعَادِ ، فَيَقُولُ : صَدَقَ عِبَادِي ، اغْسِلُوهُمْ بِنَهْرِ الْبَيْضَةِ ، فَيَخْرُجُونَ مِنْهُ نَقَاءً بِيضًا ، فَيَسْرَحُونَ فِي الْجَنَّةِ حَيْثُ شَاءُوا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ أَبُو عِقَالٍ : هِلَالُ بْنُ زَيْدِ بْنِ يَسَارٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . وَفِي إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عسقلان ، دو دلہنوں میں سے ایک ہے ، وہاں سے قیامت کے دن ستر ہزار ایسے لوگوں کو اٹھایا جائے گا ، جن سے حساب نہیں لیا جائے گا ، اور وہاں سے 50 ہزار شہداء کو اٹھایا جائے گا ، جو وفد کی شکل میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جائیں گے ، اور ان شہداء کی صفیں ہوں گی جن کے سر کٹے ہوئے ہوں گے اور ان کے ہاتھوں میں موجود ہوں گے ، اُن کی رگوں سے خون بہہ رہا ہو گا اور وہ یہ کہیں گے : اے ہمارے پروردگار ! تو ہمیں وہ چیز عطا کر دے جس کا تو نے اپنے رسولوں کے ذریعے ہمارے ساتھ وعدہ کیا تھا ، بے شک تو وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا ہے ۔ تو پروردگار یہ فرمائے گا : میرے بندوں نے سچ کہا: ہے ، انہیں ” نہر بیضہ “ میں غسل دو ! وہ لوگ جب اُس سے نکلیں گے ، تو صاف ستھرے چمکدار ہوں گے اور پھر وہ جنت میں جہاں چاہیں گے وہاں ٹھہر جائیں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوعقال ہلال بن زید بن یسار ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔ اسماعیل بن عیاش نامی راوی کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16665
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (225/3)»