حدیث نمبر: 16664
وَعَنْ حَمْرَةَ بْنِ عَبْدِ كَلَالٍ قَالَ : سَارَ عُمَرُ إِلَى الشَّامِ بَعْدَ مَسِيرِهِ الْأَوَّلِ كَانَ إِلَيْهَا ، حَتَّى إِذَا شَارَفَهَا بَلَغَهُ وَمَنْ مَعَهُ : أَنَّ الطَّاعُونَ فَاشٍ فِيهَا ، فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ : ارْجِعْ ، وَلَا تَقْتَحِمْ عَلَيْهِ ، فَلَوْ نَزَلْتَهَا وَهُوَ بِهَا لَمْ نَرَ لَكَ الشُّخُوصَ عَنْهَا ، فَانْصَرَفَ رَاجِعًا إِلَى الْمَدِينَةِ ; فَعَرَّسَ مِنْ لَيْلَتِهِ تِلْكَ ، وَأَنَا أَقْرَبُ الْقَوْمِ مِنْهُ ، فَلَمَّا انْبَعَثَ انْبَعَثَ مَعَهُ فِي أَثَرِهِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : رَدُّونِي عَنِ الشَّامِ بَعْدَ أَنْ شَارَفْتُ عَلَيْهِ ; لِأَنَّ الطَّاعُونَ فِيهِ ، أَلَا وَمَا مُنْصَرَفِي عَنْهُ بِمُؤَخِّرٍ فِي أَجَلِي ، وَمَا كَانَ قَدُومِيهِ بِمُعَجِّلِي عَنْ أَجَلِي ، أَلَا وَلَوْ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَفَرَغْتُ مِنْ حَاجَاتٍ لَا بُدَّ لِي عَنْهَا ، لَقَدْ سِرْتُ حَتَّى أَنْزِلَ الشَّامَ ، ثُمَّ أَدْخُلَ حِمْصَ ; لِأَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَيَبْعَثَنَّ اللَّهُ مِنْهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ سَبْعِينَ أَلْفًا لَا حِسَابَ ، وَلَا عَذَابَ عَلَيْهِمْ ، مَبْعَثُهُمْ فِيمَا بَيْنَ الزَّيْتُونِ ، وَحَائِطُهَا فِي الْبَرْثِ الْأَحْمَرِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

حمرہ بن عبدکلال بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ شام کی طرف ، اپنے پہلے سفر کے موقع پر ، شام جانے کے لیے روانہ ہوئے ، جب وہ شام کے قریب پہنچے تو انہیں اور ان کے ساتھیوں کو یہ اطلاع ملی کہ شام میں طاعون پھیل چکا ہے ، ان کے ساتھیوں نے ان سے کہا: آپ واپس چلیں اور شام میں داخل نہ ہوں ، اگر آپ شام گئے اور وہاں طاعون ہوا ، تو پھر ہم نہیں سمجھتے کہ آپ وہاں سے واپس آ پائیں گے ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ کی طرف واپس مڑ گئے ، اس رات انہوں نے رات کے آخری حصہ میں پڑاؤ کیا ، میں اس وقت ان کے سب سے زیادہ قریب تھا ، جب وہ اُٹھے تو میں بھی ان کے پیچھے اُٹھا ، میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا : کہ جب میں شام کے قریب پہنچ چکا تھا تو ان لوگوں نے مجھے وہاں سے واپس کروا دیا ، کیونکہ وہاں طاعون موجود ہے ، خبردار ! وہاں سے میرا واپس لوٹ جانا ، میری موت کے وقت میں تاخیر نہیں کرے گا ، اور نہ ہی میرا وہاں چلے جانا ، موت کے مخصوص وقت کو جلدی کر دے تا ، خبردار ! میں مدینہ منورہ واپس جانے کے بعد ، ضروری کاموں سے فارغ ہونے کے بعد پھر سفر کروں گا ، اور شام جا کے ٹھہروں گا ، اور پھر میں ” حمص “ میں داخل ہوؤں گا ، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اللہ تعالیٰ ( قیامت کے دن ) وہاں سے ستر ہزار ایسے افراد کو اُٹھائے گا ، جن سے نہ حساب لیا جائے گا اور نہ انہیں کوئی عذاب ہو گا ، وہ لوگ وہاں کی نرم مٹی میں موجود زیتون ( کے درختوں ) اور اس کی دیواروں کے درمیان سے اُٹھائے جائیں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16664
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (120)»