مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ الصَّلَاةِ وَحَقْنِهَا لِلدَّمِ . باب: نماز کی فضیلت اور اس کا جان کو محفوظ کرنا
وَعَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ سَلْمَانَ لِيَنْظُرَ مَا اجْتِهَادُهُ . قَالَ : فَقَامَ يُصَلِّي مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ - فَكَأَنَّهُ لَمْ يَرَ الَّذِي كَانَ يَظُنُّ - فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ سَلْمَانُ : حَافَظُوا عَلَى هَذِهِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ ; فَإِنَّهُنَّ كَفَّارَاتٌ لِهَذِهِ الْجِرَاحَاتِ مَا لَمْ تُصِبِ الْمَقْتَلَةَ ، فَإِذَا صَلَّى النَّاسُ الْعِشَاءَ صَدَرُوا عَنْ ثَلَاثِ مَنَازِلَ : مِنْهُمْ مَنْ عَلَيْهِ وَلَا لَهُ ، وَمِنْهُمْ مَنْ لَهُ وَلَا عَلَيْهِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ لَا لَهُ وَلَا عَلَيْهِ ; فَرَجُلٌ اغْتَنَمَ ظُلْمَةَ اللَّيْلِ وَغَفْلَةِ النَّاسِ فَرَكِبَ فَرَسَهُ فِي الْمَعَاصِي ، فَذَلِكَ عَلَيْهِ وَلَا لَهُ ، وَمَنْ لَهُ وَلَا عَلَيْهِ : فَرَجُلٌ اغْتَنَمَ ظُلْمَةَ اللَّيْلِ وَغَفْلَةَ النَّاسِ فَقَامَ يُصَلِّي ، فَذَلِكَ لَهُ وَلَا عَلَيْهِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ لَهُ وَلَا عَلَيْهِ : فَرَجُلٌ صَلَّى ثُمَّ نَامَ ، فَذَلِكَ لَا لَهُ وَلَا عَلَيْهِ ، إِيَّاكَ وَالْحَقْحَقَةَ ، وَعَلَيْكَ بِالْقَصْدِ وَالدَّوَامِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤طارق بن شہاب بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ وہ رات کے وقت سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے ہاں ٹھہرے ، تاکہ اُن کی رات کی عبادت کا جائزہ لیں ، راوی بیان کرتے ہیں : وہ رات کے آخری حصے میں اُٹھ کر نماز ادا کرنے لگے ، تو یہ چیز ان کی توقع کے برخلاف تھی ، تو انہوں نے سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا ، تو سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگ ان پانچ نمازوں کی حفاظت کرو ! کیونکہ یہ ان زخموں ( یعنی گناہوں ) کا کفارہ بن جاتی ہیں ، جب کہ قتل کا ارتکاب نہ کیا گیا ہو ، جب لوگ عشاء کی نماز ادا کر لیتے ہیں ، تو وہ تین حیثیتوں میں واپس آتے ہیں ، ان میں سے کچھ لوگ وہ ہوتے ہیں ، جن کے ذمہ کچھ ہوتا ہے ، اور ان کے حق میں کچھ نہیں ہوتا ، کچھ وہ ہوتے ہیں جن کے حق میں کچھ ہوتا ہے ، اور ان کے خلاف کچھ نہیں ہوتا ، اور کچھ وہ ہوتے ہیں ، جن کے حق میں کچھ نہیں ہوتا ، اور جن کے خلاف بھی کچھ نہیں ہوتا ، تو جو شخص رات کی تاریکیوں اور لوگوں کی غفلت کو غنیمت شمار کرے گا ، وہ گناہوں کے بارے میں اپنے گھوڑے پر سوار ہو جائے گا ، یہ وہ شخص ہے ، جس کے خلاف کچھ ہوتا ہے ، اس کے حق میں کچھ نہیں ہوتا ، اور جس شخص کے حق میں کچھ ہوتا ہے ، اور اس کے خلاف کچھ نہیں ہوتا ، وہ ایک ایسا شخص ہے ، جو رات کی تاریکی اور لوگوں کی غفلت کو غنیمت شمار کرتا ہے ، اور اٹھ کر نماز ادا کرتا ہے ، تو یہ وہ شخص جس کے حق میں کچھ ہوتا ہے ، اور اس کے خلاف کچھ نہیں ہوتا ، اور کچھ ایسے لوگ ہیں کہ جن کے حق میں کچھ نہیں ہوتا اور ان کے خلاف بھی کچھ نہیں ہوتا ، تو یہ وہ شخص ہے ، جو نماز ادا کر کے سو جاتا ہے ، تو یہ وہ شخص ہے کہ جس کے حق میں کچھ نہیں ہوتا اور اس کے خلاف بھی کچھ نہیں ہوتا ، تو تم انتہاء پسندی سے بچنے کی کوشش کرو ! اور میانہ روی اور باقاعدگی کو اختیار کرو !
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔