مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ الصَّلَاةِ وَحَقْنِهَا لِلدَّمِ . باب: نماز کی فضیلت اور اس کا جان کو محفوظ کرنا
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ : سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الصَّلَاةُ الْمَكْتُوبَةُ تُكَفِّرُ مَا قَبْلَهَا إِلَى الصَّلَاةِ الْأُخْرَى ، وَالْجُمْعَةُ تَكْفُرُ مَا قَبِلَهَا إِلَى الْجُمْعَةِ الْأُخْرَى ، وَشَهْرُ رَمَضَانَ يُكَفِّرُ مَا قَبْلُهُ إِلَى شَهْرِ رَمَضَانَ ، وَالْحَجُّ يُكَفِّرُ مَا قَبْلُهُ إِلَى الْحَجِّ " ، ثُمَّ قَالَ : " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ أَنْ تَحُجَّ إِلَّا مَعَ زَوْجٍ أَوْ ذِي مَحْرَمٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْمُفَضَّلُ بْنُ صَدَقَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ . ¤سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” فرض نماز ، اُس سے پہلے کی دوسری نماز کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے ، اور جمعہ اُس سے پہلے والے جمعہ کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے ، اور رمضان کا مہینہ اُس سے پہلے والے رمضان کے مہینے تک کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے ، اور حج اس سے پہلے والے حج کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے “ ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی : کسی مسلمان عورت کے لئے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ حج کے لئے جائے ، البتہ اگر اُس کا شوہر ، یا کوئی محرم عزیز ساتھ ہو ، تو حکم مختلف ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مفضل بن صدقہ ہے ، اور وہ متروک الحدیث ہے ۔