حدیث نمبر: 1661
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : إِنَّ الصَّلَوَاتِ هُنَّ الْحَسَنَاتُ ، وَكَفَّارَةُ مَا بَيْنَ الْأُولَى وَالْعَصْرِ صَلَاةُ الْعَصْرِ ، وَكَفَّارَةُ [ مَا ] بَيْنَ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى الْمَغْرِبِ صَلَاةُ الْمَغْرِبِ ، وَكَفَّارَةُ مَا بَيْنَ الْمَغْرِبِ إِلَى الْعَتَمَةِ صَلَاةُ الْعَتَمَةِ ، ثُمَّ يَأْوِي الْمُسْلِمُ إِلَى فِرَاشِهِ لَا ذَنْبَ لَهُ مَا اجْتَنَبَ الْكَبَائِرَ ، ثُمَّ قَرَأَ : ( إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ) . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” بے شک نمازیں ہی نیکیاں ہیں ، اور پہلی نماز ( یعنی ظہر کی نماز سے لے کر عصر کی نماز کے درمیان کا کفارہ عصر کی نماز بن جاتی ہے ، عصر کی نماز سے لے کر مغرب کی نماز کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ مغرب کی نماز بن جاتی ہے ، مغرب سے لے کر عشاء تک کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ عشاء کی نماز بن جاتی ہے ، پھر مسلمان بستر پر آتا ہے ، تو اس کا کوئی گناہ نہیں ہوتا ، یہ اس وقت ہوتا ہے ، جب کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا گیا ہو ، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی : ” ” بے شک نیکیاں ، گناہوں کو ختم کر دیتی ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ضرار بن صرد ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1661
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً، اس میں ضرار بن صرد راوی متروک ہے۔