مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ الصَّلَاةِ وَحَقْنِهَا لِلدَّمِ . باب: نماز کی فضیلت اور اس کا جان کو محفوظ کرنا
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " يُبْعَثُ مُنَادٍ عِنْدَ حَضْرَةِ كُلِّ صَلَاةٍ فَيَقُولُ : يَا بَنِي آدَمَ ، قُومُوا فَأَطْفِئُوا عَنْكُمْ مَا أَوْقَدْتُمْ عَلَى أَنْفُسِكُمْ ، فَيَقُومُونَ فَيَتَطَهَّرُونَ [ وَتَسْقُطُ عَنْهُمْ خَطَيَاهُمْ مِنْ أَعْيُنِهِمْ ] وَيُصَلُّونَ ، فَيُغْفَرُ لَهُمْ مَا بَيْنَهُمَا ، [ ثُمَّ يُوقِدُونَ فِيمَا بَيْنَ ذَلِكَ ، فَإِذَا كَانَ عِنْدَ صَلَاةِ الْأُولَى نَادَى : يَا بَنِي آدَمَ قُومُوا فَاطْفِئُوا مَا أَوْقَدْتُمْ عَلَى أَنْفُسِكِمْ ، فَيَقُومُونَ ، فَيَتَطَهَّرُونَ ، وَيُصَلُّونَ فَيُغْفَرُ لَهُمْ مَا بَيْنَهُمَا ] فَإِذَا حَضَرَتِ الْعَصْرُ فَمِثْلُ ذَلِكَ ، فَإِذَا حَضَرَتِ الْمَغْرِبُ فَمِثْلُ ذَلِكَ ، فَإِذَا حَضَرَتِ الْعَتَمَةُ فَمِثْلُ ذَلِكَ ، فَيَنَامُونَ فَيُغْفَرُ لَهُمْ [ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ] ; فَمُدْلِجٌ فِي خَيْرٍ ، وَمُدْلِجٌ فِي شَرٍّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبَانُ بْنُ أَبِي عَيَّاشٍ وَثَّقَهُ أَيُّوبُ وَسَلْمٌ الْعَلَوِيُّ ، وَضَعَّفَهُ شُعْبَةُ وَأَحْمَدُ وَابْنُ مَعِينٍ وَأَبُو حَاتِمٍ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ہر نماز کے وقت ایک منادی کو بھیجا جاتا ہے ، جو یہ کہتا ہے : اے اولاد آدم ! تم اُٹھو ! اور اپنے خلاف تم نے جو کچھ جلایا ہے ، اسے بجھا دو ! لوگ اٹھتے ہیں طہارت حاصل کرتے ہیں ، تو ان کی آنکھوں سے ان کے گناہ گر جاتے ہیں ، وہ لوگ نماز ادا کرتے ہیں ، تو ان کے دو نمازوں کے درمیان کے گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے ، پھر وہ اگلی نماز تک کے درمیان کے عرصے میں آگ جلاتے ہیں ، جب اگلی نماز کا وقت ہوتا ہے ، تو فرشتہ پکار کر کہتا ہے : اے اولاد آدم ! اُٹھو اور اس چیز کو بجھا دو ! جو تم نے اپنی ذات کے خلاف بجھائی ہے ، وہ اٹھتے ہیں طہارت حاصل کرتے ہیں ، نماز ادا کرتے ہیں ، تو ان کے دونوں نمازوں کے درمیان کے گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے ، جب عصر کی نماز کا وقت ہوتا ہے ، تو ایسا ہی ہوتا ہے ، جب مغرب کی نماز کا وقت ہوتا ہے ، تو ایسا ہی ہوتا ہے ، جب عشاء کی نماز کا وقت ہوتا ہے ، تو بھی ایسا ہی ہوتا ہے ، پھر جب وہ لوگ سوتے ہیں ، تو ان کی مغفرت ہو چکی ہوتی ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی : ” تو کوئی بھلائی کے عالم میں رات کرتا ہے ، اور کوئی برائی کے عالم میں رات کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابان بن ابوعیاش ہے ، جسے ایوب اور سلم علوی نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، جب کہ شعبہ ، امام أحمد ، یحیی بن معین اور ابوحاتم نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔