مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ الصَّلَاةِ وَحَقْنِهَا لِلدَّمِ . باب: نماز کی فضیلت اور اس کا جان کو محفوظ کرنا
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِلَّهِ مَلِكًا يُنَادِي عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ : يَا بَنِي آدَمَ ، قُومُوا إِلَى نِيرَانِكُمُ الَّتِي أَوْقَدْتُمُوهَا عَلَى أَنْفُسِكُمْ فَأَطْفِئُوهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ ، وَقَالَ : تَفَرَّدَ بِهِ يَحْيَى بْنُ زُهَيْرٍ الْقُرَشِيُّ . قُلْتُ : وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ إِلَّا أَنَّهُ رَوَى عَنْ أَزْهَرَ بْنِ سَعْدٍ السَّمَّانُ ، وَرَوَى عَنْهُ يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُخْرَمِيُّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ کا ایک فرشتہ ہے ، جو ہر نماز کے وقت یہ اعلان کرتا ہے : اے بنی آدم ! اپنی آگ کی طرف اُٹھ کر جاؤ ! جسے تم نے اپنی ذات کے خلاف جلایا ہے ، اور اسے بجھا دو ! “ ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، انہوں نے یہ بات بیان کی ہے : یحیی بن زہیر قرشی اسے نقل کرنے میں منفرد ہے ، میں یہ کہتا ہوں : میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، البتہ اس نے ازہر بن سعد سمان سے روایت نقل کی ہے ، جب کہ اس سے یعقوب بن اسحاق مخرمی نے روایات نقل کی ہیں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔