مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ الصَّلَاةِ وَحَقْنِهَا لِلدَّمِ . باب: نماز کی فضیلت اور اس کا جان کو محفوظ کرنا
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَحْتَرِقُونَ تَحْتَرِقُونَ ، فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الصُّبْحَ غَسَلَتْهَا ، ثُمَّ تَحْتَرِقُونَ تَحْتَرِقُونَ ، فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الظُّهْرَ غَسَلَتْهَا ، ثُمَّ تَحْتَرِقُونَ تَحْتَرِقُونَ ، فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الْعَصْرَ غَسَلَتْهَا ، ثُمَّ تَحْتَرِقُونَ تَحْتَرِقُونَ ، فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الْمَغْرِبَ غَسَلَتْهَا ، ثُمَّ تَحْتَرِقُونَ تَحْتَرِقُونَ ، فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الْعِشَاءَ غَسَلَتْهَا ، ثُمَّ تَنَامُونَ فَلَا يُكْتَبُ عَلَيْكُمْ حَتَّى تَسْتَيْقِظُوا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ إِلَّا أَنَّهُ مَوْقُوفٌ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ الْمَوْقُوفِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرِجَالُ الْمَرْفُوعِ فِيهِمْ عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تم جل جاتے ہو ، تم جل جاتے ہو ، جب تم صبح کی نماز ادا کر لیتے ہو ، تو وہ اُسے دھو دیتی ہے ، پھر تم جل جاتے ہو ، تم جل جاتے ہو ، جب تم ظہر کی نماز ادا کر لیتے ہو ، تو وہ اُسے دھو دیتی ہے ، پھر تم جل جاتے ہو ، تم جل جاتے ہو ، جب تم عصر کی نماز ادا کرتے ہو ، تو وہ اسے دھو دیتی ہے ، پھر تم جل جاتے ہو ، جل جاتے ہو ، جب تم مغرب کی نماز ادا کرتے ہو ، تو وہ اُسے دھو دیتی ہے ، پھر تم جل جاتے ہو ، جل جاتے ہو جب تم عشاء کی نماز ادا کرتے ہو ، تو وہ اسے دھو دیتی ہے پھر تم سو جاتے ہو ، تو تمہارے خلاف کوئی بات نوٹ نہیں کی جاتی ، جب تک تم بیدار نہیں ہو جاتے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، تاہم معجم کبیر میں یہ روایت ” موقوف “ روایت کے طور پر منقول ہے ، اور ” موقوف “ روایت کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، ” مرفوع “ کے رجال میں ، ایک راوی عاصم بن بہدلہ ہے ، اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔