مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَزْدِ . باب: ’’ ازد “ قبیلے کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى حَيٍّ مِنَ الْعَرَبِ يَدْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ ، فَلَمْ يَقْبَلُوا الْكِتَابَ ، وَرَجَعُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرُوهُ ، فَقَالَ : " أَمَا إِنِّي لَوْ بَعَثْتُ بِهِ إِلَى قَوْمٍ بِشَطِّ عُمَانَ مِنْ أَزِدْ شَنُوءَةَ ، وَأَسْلَمَ لَقَبِلُوهُ " . ¤ ثُمَّ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْجَلَنْدِ يَدْعُوهُ إِلَى الْإِسْلَامِ ، فَقَبِلَهُ وَأَسْلَمَ ، وَبَعَثَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِهَدِيَّةٍ فَقَدِمَتْ ، وَقَدْ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ الْهَدِيَّةَ مُوَرَّثًا ، وَقَسَمَهَا بَيْنَ فَاطِمَةَ وَالْعَبَّاسِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ صَالِحٍ الْأَزْدِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عربوں کے ایک قبیلے کو خط لکھ کر انہیں اسلام کی دعوت دی ، ان لوگوں نے اس مکتوب کو قبول نہیں کیا ، مکتوب لے جانے والے لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف واپس آئے ، اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر میں نے یہ مکتوب ” عمان “ کے کنارے موجود ” ازدشنوہ “ اور ” اسلم “ قبیلے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو بھیجا ہوتا ، تو انہوں نے اسے قبول کر لینا تھا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ” جلند “ کو خط بھیجا اور انہیں اسلام کی دعوت دی ، تو انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور اس مکتوب کو قبول کر لیا ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ بھی بھجوایا ، جب وہ تحفہ آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو چکا تھا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس تحفے کو وراثت میں منتقل کر دیا اور اسے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے درمیان تقسیم کر دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن صالح ازدی ہے اور وہ متروک ہے ۔