مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَزْدِ . باب: ’’ ازد “ قبیلے کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنْ بِشْرِ بْنِ عِصْمَةَ صَاحِبِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْأَزْدِ مِنِّي ، وَأَنَا مِنْهُمْ ، أَغْضَبُ لَهُمْ إِذَا غَضِبُوا ، وَأَرْضَى لَهُمْ إِذَا رَضُوا " . ¤ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ رَحِمَهُ اللَّهُ : إِنَّمَا قَالَ ذَلِكَ لِقُرَيْشٍ ، فَقَالَ بِشْرٌ : أَفَأَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ لَوْ كَذَبْتُ عَلَيْهِ جَعَلْتُهَا لِقَوْمِي . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي فَضْلِ الْقَبَائِلِ فَضْلُ الْأَزْدِ وَغَيْرِهِمْ . ¤سیدنا بشر بن عصمہ رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ازد ، مجھ سے ہیں اور میں اُن سے ہوں ، جب وہ غضب ناک ہوں گے تو ان کی وجہ سے میں بھی غضب ناک ہوؤں گا اور جب وہ راضی ہوں گے تو ان کی وجہ سے میں بھی راضی ہوؤں گا ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات قریش کے بارے میں ارشاد فرمائی تھی ، تو سیدنا بشر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹی بات منسوب کروں گا ؟ اگر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرنی ہوتی ، تو میں اُسے اپنی قوم کے لیے منسوب کرتا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : اس سے پہلے مختلف قبائل کی فضیلت کے بارے میں روایات میں ” ازد “ اور دیگر قبائل کی فضیلت کا بیان گزر چکا ہے ۔