مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ الصَّلَاةِ وَحَقْنِهَا لِلدَّمِ . باب: نماز کی فضیلت اور اس کا جان کو محفوظ کرنا
وَعَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ وَالْجُمْعَةُ إِلَى الْجُمْعَةِ كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيَّنَهَا مَا اجْتُنِبَتِ الْكَبَائِرُ " ، وَقَالَ : " مِنَ الْجُمْعَةِ سَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا مُسْلِمٌ وَلَا مُسْلِمَةٌ يَسْأَلُ اللَّهُ فِيهَا خَيْرًا إِلَّا أَعْطَاهُ " . قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثْلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ كَنَهْرٍ غَمْرٍ بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ كُلَّ يَوْمٍ فِيهِ خَمْسَ مَرَّاتٍ ، فَمَا يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ ؟ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ زَائِدَةُ بْنُ أَبِي الرِّفَادِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” پانچ نمازیں ، اور ایک جمعہ دوسرے جمعے تک ، یہ درمیان میں ہونے والے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں ، جب کہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا گیا ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات بھی ارشاد فرمائی ہے : جمعہ میں ایک گھڑی ایسی ہوتی ہے ، جس میں کوئی مسلمان مرد ، یا مسلمان عورت ، اللہ تعالیٰ سے جو بھی بھلائی مانگتا ہے ، اللہ تعالیٰ وہ ( بھلائی ) اُسے عطا کر دیتا ہے “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” پانچ نمازوں کی مثال ، صاف پانی کی اس نہر کی مانند ہے ، جو کسی شخص کے دروازے کے پاس موجود ہو ، اور وہ شخص روزانہ اس میں پانچ مرتبہ غسل کرے ، تو کیا اس کا میل باقی رہ جائے گا ؟ “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زائدہ بن ابورفاد ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔