حدیث نمبر: 16566
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : كَانَ عَلَى عَائِشَةَ مُحَرَّرٌ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ ، فَقَدِمَ سَبْيٌ بِالْعَنْبَرِ فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ تَعْتِقَ مِنْهُمْ ، وَقَالَ : " مَنْ كَانَ عَلَيْهِ مُحَرَّرٌ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ فَلَا يُعْتِقُ مِنْ حِمْيَرَ أَحَدًا " . ¤ قَالَ عَلِيُّ بْنُ عَابِسٍ : فَقُلْتُ لِإِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ : وَمَا كَانَ حِمْيَرُ ؟ قَالَ : هُوَ أَكْبَرُ مِنْ إِسْمَاعِيلَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ عَنْهُ ، وَفِيهِمَا عَلِيُّ بْنُ عَابِسٍ الْكُوفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ذمہ سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے کسی غلام کو آزاد کرنا لازم تھا ” بلعنبر “ قبیلے کے کچھ قیدی آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ ان میں سے کسی کو آزاد کر دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس کے ذمہ سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے کسی کو آزاد کرنا لازم ہو وہ حمیر میں سے کسی کو آزاد نہ کرے ۔ “
علی بن عابس کہتے ہیں : میں نے اسماعیل بن ابوخالد سے دریافت کیا : جمیر کون تھے ؟ تو انہوں نے بتایا : وہ سیدنا اسماعیل علیہ السلام سے بڑے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اختصار کے ساتھ ان صحابی کے حوالے سے نقل کی ہے اور ان دونوں روایات کی سند میں ایک راوی علی بن عابس کوفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16566
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2825) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10400)»