مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي بَنِي تَمِيمٍ . باب: بنوتمیم کے بارے میں جو منقول ہے
عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّهُ كَانَ عَلَيْهَا رَقَبَةٌ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ ، فَجَاءَ سَبْيٌ مِنْ خَوْلَانَ ، فَأَرَادَتْ أَنْ تَعْتِقَ مِنْهُمْ ، فَنَهَاهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ جَاءَ سَبْيٌ مِنْ مُضَرَ مِنْ بَنِي الْعَنْبَرِ ، فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ تَعْتِقَ مِنْهُمْ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیده عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : اُن کے ذمہ سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے کسی کو آزاد کرنا لازم تھا ، ایک مرتبہ خولان قبیلے کے کچھ قیدی آئے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان میں سے کسی کو آزاد کرنے کا ارادہ کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں منع کر دیا ، پھر مضر قبیلے سے تعلق رکھنے والے ، بنو عنبر سے تعلق رکھنے والے کچھ قیدی آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ ہدایت کی کہ وہ اُن میں سے کسی کو آزاد کر دیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔