حدیث نمبر: 16564
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ : نَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى عِصَابَةٍ قَدْ أَقْبَلَتْ فَقَالَ : " أَتَتْكُمُ الْأَزْدُ أَحْسَنُ النَّاسِ وُجُوهًا ، وَأَعْذَبُهَا أَفْوَاهًا ، وَأَصْدَقُهَا لِقَاءً " . ¤ وَنَظَرَ إِلَى كَبْكَبَةٍ قَدْ أَقْبَلَتْ فَقَالَ : " مَنْ هَذِهِ ؟ " . قَالُوا : بَكْرُ بْنُ وَائِلٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ اجْبُرْ كَسِيرَهُمْ ، وَآوِ طَرِيدَهُمْ ، وَأَرْضِ بَرَّهُمْ ، وَلَا تُرِنِي مِنْهُمْ سَائِلًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الشَّاذَكُونِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

محمد بن عبداللہ بن عبدالرحمن اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو آتے ہوئے دیکھا تو فرمایا : ” ازد “ قبیلے کے لوگ تمہارے پاس آئے ہیں ، جو چہرے کے اعتبار سے لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت ہیں ، سب سے زیادہ میٹھے منہ والے ہیں اور ملاقات میں سب سے زیادہ سچے ہیں “ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو آتے ہوئے دیکھا ، تو دریافت کیا : یہ کون لوگ ہیں ؟ لوگوں نے بتایا : یہ بکر بن وائل ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے اللہ ! تو ان کے ٹوٹے ہوئے کو جوڑ دے ، ان کے نکالے ہوئے کو پناہ دیدے ، ان کے نیک شخص کو راضی کر دے اور مجھے ان کی طرف سے سائل نہ دکھانا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن داؤد شاذ کونی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16564
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (2837)»