مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي قَبَائِلِ الْعَرَبِ . باب: عربوں کے قبائل کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ : " بَنُو غِفَارَ ، وَأَسْلَمَ ، كَانُوا لِكَثِيرٍ مِنَ النَّاسِ فِتْنَةً ، يَقُولُونَ : لَوْ كَانَ خَيْرًا مَا جَعَلَهُ اللَّهُ أَوَّلَ النَّاسِ ، وَأَنَّهَا غِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا ، وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ بَاخْتِصَارٍ عَنْهُ وَفِي إِسْنَادِ الْبَزَّارِ يُوسِفُ بْنُ خَالِدِ السَّمْتِيِّ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بنو غفار اور اسلم قبیلے کے لوگ ، بہت سے لوگوں کے لیے آزمائش ہیں ، وہ لوگ یہ کہتے ہیں : کہ اگر یہ بھلائی ہوتی ، تو اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ( باقی ) لوگوں میں سب سے پہلے نہ رکھتا ، بے شک غفار قبیلے کے لوگوں کی اللہ تعالیٰ مغفرت کرے اور اسلم قبیلے کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ سلامت رکھے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اختصار کے ساتھ اسے اُن صحابی کے حوالے سے نقل کیا ہے ، امام بزار کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے اور وہ ضعیف ہے ، امام طبرانی کی سند میں ایک راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔