حدیث نمبر: 16555
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ الْحَلِيفَانِ مِنْ أَسْلَمَ وَغِفَارَ خَيْرٌ مِنَ الْحَلِيفَيْنِ أَسَدٍ وَغَطَفَانَ ، أَتَرَوْنَهُمْ خَسِرُوا ؟ " . قَالُوا : نَعَمْ . قَالَ : " أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ الْحَلِيفَانِ مُزَيْنَةَ وَجُهَيْنَةَ خَيْرٌ مِنْ أَسَدٍ وَغَطَفَانَ وَهَوَازِنَ وَتَمِيمٍ وَبَنِي وَعَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ ؟ " . فَقَالَ عُيَيْنَةُ بْنُ بَدْرِ بْنِ حُصَيْنٍ : وَاللَّهِ ، لَأَنْ أَكُونَ مَعَ هَؤُلَاءِ فِي النَّارِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَكُونَ مَعَ هَؤُلَاءِ فِي الْجَنَّةِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى أَحْمَقَ مُطَاعٍ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا تم لوگ یہ سمجھتے ہو ؟ کہ اگر اسلم اور غفار ، یہ دونوں حلیف قبیلے ، اسد اور غطفان نامی دو حلیف قبیلوں سے بہتر ہوں ، تو کیا تم یہ سمجھو گے کہ وہ خسارے کا شکار ہو گئے ؟ لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم یہ سمجھتے ہو کے مزینہ اور جہینہ نامی دو حلیف قبیلے ، اسد ، غطفان ، ہوازن ، تمیم اور بنو عامر بن صعصعہ سے بہتر ہیں ؟ تو عیینہ بن بدر بن حصین نے کہا: اللہ کی قسم ! میں اُن لوگوں کے ساتھ جہنم میں جاؤں ، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہو گا کہ میں ان لوگوں کے ساتھ جنت میں جاؤں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص یہ پسند کرتا ہو کہ وہ کسی ایسے احمق کو دیکھے ، جسے پیشوا کی حیثیت حاصل ہو ، تو اُسے اس کو دیکھ لینا چاہیے ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : صحیح میں اس روایت کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر ہے اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16555
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3927) اخرجه احمد فى المسند (417/5)»