مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي قَبَائِلِ الْعَرَبِ . باب: عربوں کے قبائل کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ أَسْلَمَ ، وَغِفَارَ ، وَمُزَيْنَةَ ، وَأَشْجَعَ ، وَجُهَيْنَةَ وَمَنْ كَانَ مِنْ بَنِي كَعْبٍ مَوَالِيَّ دُونَ النَّاسِ ، وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ مَوْلَاهُمْ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَهُوَ عِنْدَ مُسْلِمٍ إِلَّا أَنَّهُ جَعَلَ مَكَانَ أَسْلَمَ : الْأَنْصَارَ ، وَجَعَلَ مَوْضِعَ بَنِي كَعْبٍ : بَنِي عَبْدَةَ . وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک اسلم ، غفار ، مزینہ ، اشجع اور جہینہ اور بنو کعب سے تعلق رکھنے والے جو لوگ ہیں وہ باقی لوگوں کو چھوڑ کر میرے موالی ( یعنی ساتھی ) ہیں ، اور اللہ تعالیٰ اور اُس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان کے مولیٰ ہیں ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اسے امام مسلم نے بھی نقل کیا ہے ، تاہم انہوں نے لفظ ” اسلم “ کی جگہ لفظ ” انصار “ نقل کیا ہے ، اور ” بنو کعب “ کی جگہ ” بنو عبدہ “ نقل کیا ہے ۔ امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف موسیٰ بن طلحہ بن عبیداللہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔