مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي قَبَائِلِ الْعَرَبِ . باب: عربوں کے قبائل کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ قَالَ : عُرِضَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا خَيْلٌ وَعِنْدَهُ عُيَيْنَةُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنَا أَفْرَسُ بِالْخَيْلِ مِنْكَ " . فَقَالَ عُيَيْنَةُ : إِنْ تَكُنْ أَفْرَسَ بِالْخَيْلِ مِنِّي فَأَنَا أَفْرَسُ بِالرِّجَالِ مِنْكَ ، قَالَ : " وَكَيْفَ ؟ " . قَالَ : إِنَّ خَيْرَ الرِّجَالِ رِجَالٌ لَابِسُو الْبُرُدَ ، وَاضِعُو السُّيُوفِ عَلَى عَوَاتِقِهِمْ ، وَعَرَضُوا الرِّمَاحَ عَلَى مَنَاسِجِ خُيُولِهِمْ ، رِجَالُ نَجْدٍ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كَذَبْتَ ، بَلْ هُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ ، الْإِيمَانُ يَمَانٌ إِلَى لَخْمٍ ، وَجُذَامَ ، وَعَامِلَةَ ، وَمَأْكُولُ حِمْيَرَ خَيْرٌ مِنْ أَكْلِهَا ، وَحَضْرَمَوْتُ خَيْرٌ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ " . ¤ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَلَا قَيْلَ ، وَلَا مَلِكَ ، وَلَا قَاهِرَ إِلَّا اللَّهُ " . ¤ فَبَعَثَ السِّمْطَ إِلَى عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " حَضْرَمَوْتُ خَيْرٌ مَنْ بَنِي الْحَارِثِ " ؟ . قَالَ : نَعَمْ . قَالَ سِمْطٌ : آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ . ¤ وَلَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمُلُوكَ الْأَرْبَعَةَ : جَمَدَاءَ ، وَمِخْوَسَاءَ ، وَأَبْضَعَةَ ، وَمِشْرَحَاءَ ، وَأُخْتَهُمُ الْعَمَرَّدَةَ ، وَكَانَتْ تَأْتِي الْمُسْلِمِينَ إِذَا سَجَدُوا فَتَرْكَبُهُمْ . ¤ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَمَرَنِي أَنْ أَلْعَنَ قُرَيْشًا فَلَعَنْتُهُمْ مَرَّتَيْنِ ، ثُمَّ أَمَرَنِي أَنْ أُصَلِّيَ عَلَيْهِمْ مَرَّتَيْنِ فَصَلَّيْتُ عَلَيْهِمْ مَرَّتَيْنِ ، وَأَكْثَرُ الْقَبَائِلِ فِي الْجَنَّةِ : مَذْحِجٌ ، وَأَسْلَمُ ، وَغِفَارُ ، وَمُزَيْنَةُ ، وَأَخْلَاطُهُمْ مِنْ جُهَيْنَةَ خَيْرٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ ، وَتَمِيمٍ ، وَهَوَازِنَ ، وَغَطَفَانَ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَأَنَا لَا أُبَالِي أَنْ يَهْلِكَ الْحَيَّانِ كِلَاهُمَا ، وَأَمَرَنِي أَنْ أَلْعَنَ قَبِيلَتَيْنِ : تَمِيمَ بْنَ مُرٍّ سَبْعًا فَلَعَنْتُهُمْ ، وَبَكْرَ بْنَ وَائِلٍ خَمْسًا ، وَعُصَيَّةُ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، إِلَّا مَازِنَ وَقَيْسَ قَبِيلَتَانِ لَا يُدْخِلُ الْجَنَّةَ مِنْهُمْ أَحَدًا أَبَدًا ، مَنَاعِشَ وَمُلَادِسَ ، وَزَعَمَ أَنَّهُمَا قَبِيلَتَانِ تَاهَتَا اتَّبَعَتَا الْمَشْرِقَ فِي عَامِ جَدْبٍ ، فَانْقَطَعَتَا فِي نَاحِيَةٍ مِنَ الْأَرْضِ لَا يُوَصَلُ إِلَيْهِمَا ، وَذَلِكَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، عَنْ شَيْخِهِ بَكْرِ بْنِ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيِّ . قَالَ الذَّهَبِيُّ : حَمَلَ عَنْهُ النَّاسُ ، وَهُوَ مُقَارِبُ الْحَالِ ، وَقَالَ النَّسَائِيُّ : ضَعِيفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَقَدْ رَوَاهُ بِنَحْوِهِ بِإِسْنَادٍ جَيِّدٍ عَنْ شَيْخَيْنِ آخَرَيْنِ . ¤سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گھوڑے پیش کئے گئے اس وقت آپ کے پاس عیینہ موجود تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں تم سے بڑا شہسوار ہوں ، عیینہ نے کہا: اگر آپ مجھ سے بڑے شہوار ہیں ، تو میں آپ سے زیادہ بڑا پیادہ ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : وہ کیسے ؟ اس نے کہا: مردوں میں بہتر وہ لوگ ہوتے ہیں جو چادریں پہنتے ہیں ، اپنے کندھوں پر تلواریں رکھتے ہیں اور اپنے نیزے گھوڑوں کی سموں ( یا نتھنوں ) کے پاس رکھتے ہیں ، اور وہ نجد کے لوگ ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے غلط کہا: ہے ( یعنی جو لوگ سب سے بہتر ہوتے ہیں ) وہ اہل یمن کے مرد ہیں اور ایمان یمنی ہے ، جو لخم ، جذام ، عاملہ کی طرف ہے اور حمیر کا کھایا ہوا ، اُن کے کھانے والے سے بہتر ہے اور حضرموت بنو حارث سے بہتر ہیں ۔ “
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا : ” حکومت ، بادشاہی اور غلبہ صرف اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ۔ “
( راوی بیان کرتے ہیں : ) سمط نے سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا : کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : حضرموت ، بنو حارث سے بہتر ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو سمط نے کہا: میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتا ہوں ۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار بادشاہوں پر لعنت کی ہے : جمداء ، مخوساء ، ابضعہ ، مشرحاء اور ان کی بہن عمردہ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) جب مسلمان سجدے میں گئے ہوتے تھے تو یہ عورت اُن کے پاس آتی تھی اور ان پر سوار ہو جاتی تھی ۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے : اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ حکم دیا کہ میں قریش پر لعنت کروں ، تو میں نے ان پر دو مرتبہ لعنت کی پھر اس نے مجھے حکم دیا کہ میں اُن کے لئے دو مرتبہ دعائے رحمت کروں ، تو میں نے ان کے لئے دو مرتبہ دعائے رحمت کی ، جنت میں مذحج ، اسلم ، غفار اور مزینہ قبیلے کے لوگ زیادہ تعداد میں ہوں گے ، اور اُن سے ملتے جلتے جہینہ قبیلے کے لوگ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک بنو اسد اور تمیم اور ہوازن اور غطفان سے بہتر ہوں گے ، اور میں اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ اگر دونوں قبیلے ہلاکت کا شکار ہو جائیں ، پروردگار نے مجھے یہ حکم دیا کہ میں دو قبیلوں ، تمیم بن مر پر سات مرتبہ لعنت کروں ، تو میں نے ان پر لعنت کی ، اور بکر بن وائل پر پانچ مرتبہ لعنت کروں ، عصیہ قبیلے نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی ، البتہ مازن اور قیس قبیلے کا معاملہ مختلف ہے ۔
ان ( کفار ) میں سے کوئی شخص کبھی جنت میں داخل نہیں ہو گا ، مناعش اور ملادس ، ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ دو قبیلے وہ ہیں جو بھٹک گئے تھے اور قحط سالی کے دوران یہ دونوں مشرق کی طرف چلے گئے تھے اور عام ( آباد ) زمین سے ہٹ کر ایک کونے میں چلے گئے تھے ، ان تک پہنچا نہیں جا سکتا تھا ، یہ زمانہ جاہلیت کی بات ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد بکر بن سہل دمیاطی کے حوالے سے نقل کی ہے ، امام ذہبی کہتے ہیں : لوگوں نے ان سے روایات نقل کی ہیں ، یہ مقارب الحال ہے ، امام نسائی رحمہ اللہ کہتے ہیں : یہ ضعیف ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، اس کی مانند روایت عمدہ سند کے ساتھ انہوں نے دو دیگر اساتذہ سے نقل کی ہے ۔