حدیث نمبر: 16550
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي دَارِنَا يَعْرِضُ الْخَيْلَ . قَالَ : فَدَخَلَ عَلَيْهِ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ ، فَقَالَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَنْتَ أَبْصَرُ مِنِّي بِالْخَيْلِ ، وَأَنَا أَبْصَرُ بِالرِّجَالِ مِنْكَ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَأَيُّ الرِّجَالِ خَيْرٌ ؟ " . فَقَالَ : رِجَالٌ يَحْمِلُونَ سُيُوفَهُمْ عَلَى عَوَاتِقِهِمْ ، وَيَعْرِضُونَ رِمَاحَهُمْ عَلَى مَنَاسِجِ خُيُولِهِمْ ، وَيَلْبَسُونَ الْبُرُودَ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كَذَبْتَ ، بَلْ خَيْرُ الرِّجَالِ رِجَالُ ذِي الْإِيمَانِ يَمَانٌ ، وَأَكْثَرُ قَبِيلَةٍ فِي الْجَنَّةِ مَذْحِجٌ ، وَمَأْكُولُ حِمْيَرَ خَيْرٌ مِنْ أَكْلِهَا ، وَحَضْرَمَوْتُ خَيْرٌ مِنْ كِنْدَةَ ، فَلَعَنَ اللَّهُ الْمُلُوكَ الْأَرْبَعَةَ : جَمَدَاءَ ، وَمِشْرَخَاءَ ، وَمِخْوَسَاءَ ، وَأَبْضَعَةَ ، وَأُخْتَهُمُ الْعَمَرَّدَةَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ خَالِدَ بْنَ مَعْدَانَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ مُعَاذٍ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے محلے میں موجود تھے ، آپ کے سامنے گھوڑے پیش کئے گئے ، اسی دوران عیینہ بن حصن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: شہسواروں کے بارے میں آپ مجھ سے زیادہ بصیرت رکھتے ہیں اور پیادہ افراد کے بارے میں ، میں آپ سے زیادہ بصیرت رکھتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کون سے مرد بہتر ہوتے ہیں ؟ اس نے کہا: وہ مرد جو اپنی تلوار اپنے کندھوں پر رکھتے ہیں اور اپنے نیزے اپنے گھوڑوں کی سموں ( یا نتھنوں ) کے پاس رکھتے ہیں اور نجد سے تعلق رکھتے ہیں ، وہ چادریں پہنتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے غلط کہا: ہے ، بلکہ مردوں میں سب سے بہتر مرد ایمان والے یمنی لوگ ہیں اور جنت میں زیادہ تعداد میں مذحج قبیلے کے لوگ ہوں گے ، اور حمیر کا کھایا ہوا اُس کے کھانے والے سے بہتر ہے اور حضرموت ، کندہ سے بہتر ہے ، اللہ تعالی چار بادشاہوں پر لعنت کرے ، جمداء ، مشرخاء ، مخوساء ، ابضعہ اور ان کی بہن عمردہ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔ البتہ خالد بن معدان نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16550
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (98/20)»