حدیث نمبر: 16545
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : ذُكِرَتِ الْقَبَائِلُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلُوهُ عَنْ بَنِي عَامِرٍ فَقَالَ : " جَمَلٌ أَزْهَرُ ، يَأْكُلُ مِنْ أَطْرَافِ الشَّجَرِ " . وَسَأَلُوهُ عَنْ هَوَازِنَ فَقَالَ : " زَهْرَةٌ تَنْبُعُ مَاءً " . وَسَأَلُوهُ عَنْ بَنِي تَمِيمٍ فَقَالَ : " ثَبَتُ الْأَقْدَامِ ، رُجَّحُ الْأَحْلَامِ ، عُظَمَاءُ الْهَامِ ، أَشَدُّ النَّاسِ عَلَى الدَّجَّالِ فِي آخِرِ الزَّمَانِ ، هَضْبَةٌ حَمْرَاءُ لَا يَضُرُّهَا مَنْ نَاوَأَهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سَلَامُ بْنُ صُبَيْحٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مختلف قبائل کا ذکر کیا گیا ، آپ سے بنو عامر کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا : وہ چمکتی رنگت کا اونٹ ہیں ، جو درخت کے اطراف میں سے کھاتا ہے ، لوگوں نے آپ سے ہوازن کے بارے میں دریافت کیا : تو آپ نے فرمایا : وہ چمکدار لوگ ہیں ، جن سے پانی پھوٹتا ہے ، لوگوں نے آپ سے بنو تمیم کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا : وہ ثابت قدم لوگ ہیں ، سمجھدار ہیں ، اُن کے سر بڑے ہیں ، آخری زمانے میں دجال کے خلاف وہ سب سے زیادہ سخت ہوں گے ، وہ ایک ( سطح مرتفع والی ) ایسی سرخ مٹی ہے کہ جو شخص اس کی پناہ میں آیا ، اسے کوئی نقصان نہیں ہوتا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلام بن صبیح ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16545
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن