حدیث نمبر: 16544
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَجَدْتُ جَمَاعَةً مِنَ الْعَرَبِ يَتَفَاخَرُونَ فِيمَا بَيْنَهُمْ ، فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا هَذَا يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ ، الَّذِي أَسْمَعُ ؟ " . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذِهِ الْعَرَبُ تَفَاخَرُ فِيمَا بَيْنَهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ ، إِذَا فَاخَرْتَ النَّاسَ فَفَاخِرْ بِقُرَيْشٍ ، وَإِذَا كَاثَرْتَ فَكَاثِرْ بِتَمِيمٍ ، وَإِذَا حَارَبْتَ فَحَارِبْ بِقَيْسٍ ، أَلَا إِنَّ وُجُوهَهَا كِنَانَةٌ ، وَلِسَانَهَا أُسْدٌ ، وَفُرْسَانَهَا قَيْسٌ . يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ إِنَّ لِلَّهِ فُرْسَانًا فِي سَمَائِهِ يُحَارِبُ بِهِمْ أَعْدَاءَهُ ، وَهُمُ الْمَلَائِكَةُ ، وَلَهُ فُرْسَانٌ فِي أَرْضِهِ يُحَارِبُ بِهِمْ أَعْدَاءَهُ ، وَهُمْ قَيْسٌ . يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ ، إِنَّ آخِرَ مَنْ يُقَاتِلُ عَنِ الْإِسْلَامِ حِينَ لَا يَبْقَى إِلَّا ذِكْرُهُ ، وَعَنِ الْقُرْآنِ حِينَ لَا يَبْقَى إِلَّا رَسْمُهُ لَرَجُلٌ مِنْ قَيْسٍ " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ قَيْسٍ ؟ قَالَ : " مِنْ سُلَيْمٍ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي كَرِيمَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے عربوں کے مختلف قبائل سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کو پایا کہ وہ ایک دوسرے کے سامنے فخر کا اظہار کر رہے تھے ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، آپ نے فرمایا : اے ابودرداء ! یہ کیا معاملہ ہے جو میں سن رہا ہوں ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ عرب ہیں ، جو ایک دوسرے کے سامنے فخر کا اظہار کر رہے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابودرداء ! جب تم نے لوگوں کے سامنے فخر کا اظہار کرنا ہو ، تو قریش کے حوالے سے فخر کا اظہار کرنا ، اور جب کثرت کا اظہار کرنا ہو ، تو تمیم کے حوالے سے کثرت کا اظہار کرنا ، اور جب جنگ کرنی ہو ، تو قیس قبیلے کی مدد سے جنگ کرنا ، کیونکہ ان کے چہرے ترکش ہیں ، ان کی زبان شیر کی ہے اور ان کے گھڑ سوار قیس ہیں ۔
اے ابودرداء ! آسمان میں اللہ تعالیٰ کے کچھ شہسوار ہیں ، جن کے ذریعے وہ اپنے دشمنوں سے جنگ کرتا ہے اور وہ فرشتے ہیں اور زمین میں بھی اللہ تعالیٰ کے شہسوار ہیں ، جن کے ذریعے وہ اپنے دشمنوں سے جنگ کرتا ہے اور وہ قیس قبیلے کے لوگ ہیں ۔
اے ابودرداء ! اسلام کی طرف سے جو لوگ آخر میں جنگ میں حصہ لیں گے ، اس وقت جب صرف اسلام کا تذکرہ باقی رہ جائے گا اور قرآن کے حوالے سے جو لوگ سب سے آخر میں جنگ میں حصہ لیں گے ، اس وقت جب صرف اس کی رسم باقی رہ جائے گی ، وہ قیس قبیلے سے تعلق رکھنے والے لوگ ہوں گے ۔
راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! قیس قبیلے میں سے ( کون سی شاخ کے ) لوگ ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سلیم سے تعلق رکھنے والے لوگ ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ابوکریمہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16544
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2819)»