حدیث نمبر: 16546
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْرِضُ يَوْمًا خَيْلًا ، وَعِنْدَهُ عُيَيَنَةُ بْنُ حِصْنِ بْنِ بَدْرٍ الْفَزَارِيُّ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنَا أَفْرَسُ بِالْخَيْلِ مِنْكَ " . فَقَالَ عُيَيْنَةُ : وَأَنَا أَفْرَسُ بِالرِّجَالِ مِنْكَ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَكَيْفَ ذَاكَ ؟ " . قَالَ : خَيْرُ الرِّجَالِ رِجَالٌ يَحْمِلُونَ سُيُوفَهُمْ عَلَى عَوَاتِقِهِمْ ، جَاعِلِي رِمَاحِهِمْ عَلَى مَنَاسِجِ خُيُولِهِمْ ، لَابِسِي الْبُرُدِ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كَذَبْتَ ، بَلْ خَيْرُ الرِّجَالِ رِجَالُ أَهْلِ الْيَمَنِ ، وَالْإِيمَانُ يَمَانُ إِلَى لَخْمٍ ، وَجُذَامَ ، وَعَامِلَةَ ، وَمَأْكُولُ حِمْيَرَ خَيْرٌ مِنْ أَكْلِهَا ، وَحَضْرَمَوْتَ خَيْرٌ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ ، وَقَبِيلَةٌ خَيْرٌ مِنْ قَبِيلَةٍ ، وَقَبِيلَةٌ شَرٌّ مِنْ قَبِيلَةٍ ، وَاللَّهِ لَا أُبَالِي أَنْ يَهْلِكَ الْحَارِثَانِ كِلَاهُمَا ، لَعَنَ اللَّهُ الْمُلُوكَ الْأَرْبَعَةَ : جَمَدَاءَ ، وَمِخْوَسًاءَ ، وَمِشْرَحًاءَ ، وَأَبْضَعَةَ ، وَأُخْتَهُمُ الْعَمَرَّدَةَ " . ثُمَّ قَالَ : " أَمَرَنِي رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْ أَلْعَنَ قُرَيْشًا فَلَعَنَتْهُمْ ، وَأَمَرَنِي أَنْ أُصَلِّيَ عَلَيْهِمْ مَرَّتَيْنِ ، فَصَلَّيْتُ عَلَيْهِمْ مَرَّتَيْنِ " . ¤ ثُمَّ قَالَ : " عُصِيَّةُ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ غَيْرَ قَيْسٍ ، وَجَعْدَةَ ، وَعُصِيَّةَ " . ¤ ثُمَّ قَالَ : " لَأَسْلَمُ ، وَغِفَارُ ، وَأَخْلَاطُهُمْ مِنْ جُهَيْنَةَ خَيْرٌ مِنْ أَسَدٍ ، وَتَمِيمٍ وَغَطَفَانَ وَهَوَازِنَ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ ثُمَّ قَالَ : " شَرُّ قَبِيلَتَيْنِ فِي الْعَرَبِ : نَجْرَانُ ، وَبَنُو تَغْلِبَ ، وَأَكْثَرُ الْقَبَائِلِ فِي الْجَنَّةِ مَذْحِجٌ ، وَمَأْكُولٌ " . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک دن گھوڑے گزرے ، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عیینہ بن حصن بن بدر فزاری موجود تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : میں تم سے زیادہ اچھا شہسوار ہوں ( یا میں شہسواروں کا تم سے بڑا سپہ سالار ہوں ) اس نے کہا: لیکن میں پیادہ افراد کو آپ سے زیادہ بہتر طریقے سے لے کر چل سکتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا : وہ کیسے ؟ اس نے کہا: لوگوں میں سب سے بہتر وہ مرد ہوتے ہیں ، جو اپنے کندھوں پر تلواریں رکھتے ہیں اور اپنے نیزے اپنے گھوڑوں کے قدموں کے پاس رکھتے ہیں ، اور نجد کی بنی ہوئی چادر اوڑھے ہوئے ہوتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم غلط کہہ رہے ہو ، بلکہ لوگوں میں سب سے بہتر اہل یمن کے افراد ہیں ، ایمان یمنی ہے ، جو لخم ، جذام اور عاملہ کی طرف ہے ، اور حمیر کا کھایا ہوا ، اس کے کھانے والے سے بہتر ہے ، اور حضرموت ، بنو حارث سے بہتر ہے ، ایک قبیلہ دوسرے سے بہتر ہوتا ہے اور ایک قبیلہ کسی دوسرے سے برا ہوتا ہے ، اللہ کی قسم ! میں اس بات کی پرواہ نہیں کروں گا کہ اگر حارث قبیلے کی دونوں شاخیں ہلاکت کا شکار ہو جائیں ، اللہ تعالیٰ چار بادشاہوں پر لعنت کرے ، جمداء ، مخوساء ، مشرحاء اور ابضعہ اور اُن کی بہن عمردہ ۔
پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرے پروردگار نے مجھے یہ حکم دیا تھا کہ میں قریش پر لعنت کروں ، تو میں نے ان پر لعنت کی ، اب اس نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں اُن کے لئے دو مرتبہ دعائے رحمت کروں ، تو میں ان کے لئے دو مرتبہ دعائے رحمت کرتا ہوں ۔
پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : عصیہ قبیلے نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ، صرف قیس اور جعدہ اور عصیہ کا معاملہ مختلف ہے ۔
پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسلم اور غفار اور ان کے ملتے جلتے لوگ ، جو جہینہ سے تعلق رکھتے ہیں ، وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اسد ، تمیم ، غطفان اور ہوازن کے مقابلے میں بہتر ہوں گے ۔
پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : عربوں کے دو بدترین قبیلے نجران اور بنو تغلب ہیں ، اور جنت میں زیادہ تعداد والے قبیلے مذحج اور ماکول ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16546
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (387/4)»