حدیث نمبر: 16543
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قُرَيْشٌ ، وَالْأَنْصَارُ ، وَجُهَيْنَةُ ، وَمُزَيْنَةُ ، وَأَسْلَمُ ، وَغِفَارُ ، وَأَشْجَعُ ، وَسُلَيْمٌ ، أَوْلِيَائِي ، لَيْسَ لَهُمْ وَلِيٌّ دُونَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قریش ، انصار ، جہینہ ، مزینہ ، اسلم ، غفار ، اشجع اور سلیم ( یعنی ان قبائل کے افراد ) یہ میرے ساتھی ہیں ، ان کا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ اور کوئی ولی نہیں ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، امام بزار کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عبدالملک بن محمد بن عبداللہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے اور اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16543
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2812) اخرجه ابو يعلى فى المسند (867)»