حدیث نمبر: 1650
وَعَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ : سَمِعْتُ سَعْدًا وَنَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُونَ : كَانَ رَجُلَانِ أَخَوَانِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ أَحَدُهُمَا أَفْضَلَ مِنَ الْآخَرِ ، فَتُوُفِّيَ الَّذِي هُوَ أَفْضَلُهُمْ وَعُمِّرَ الْآخَرُ بَعْدَهُ ثُمَّ تُوُفِّيَ ، فَذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَضْلُ الْأَوَّلِ عَلَى الْآخَرِ فَقَالَ : " أَلَمْ يَكُنْ يُصَلِّي ؟ " قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا يُدْرِيكَ مَا بَلَغَتْ بِهِ صَلَاتُهُ ؟ " ، ثُمَّ قَالَ عِنْدَ ذَلِكَ : " إِنَّمَا مَثَلُ الصَّلَاةِ كَمَثَلِ نَهْرٍ جَارٍ بِبَابِ رَجُلٍ غَمْرٍ عَذْبٍ ، يَقْتَحِمُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ ، فَمَاذَا تَرَوْنَ يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ ؟ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : ثُمَّ عُمِّرَ الْآخَرُ بَعْدَهُ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً . وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

عامر بن سعد بن ابی وقاص بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں دو افراد تھے ، وہ دونوں بھائی تھے ، اُن میں سے ایک دوسرے سے فضیلت رکھتا تھا ، اس شخص کا انتقال ہو گیا ، جو فضیلت رکھتا تھا ، اس کے انتقال کے بعد اس کے دوسرے بھائی کو مزید کچھ زندگی نصیب ہوئی ، پھر اُس کا بھی انتقال ہو گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پہلے بھائی کی دوسرے پر فضیلت کا ذکر کیا گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا وہ ( یعنی جو بھائی بعد میں فوت ہوا ہے ) وہ بعد میں نماز ادا نہیں کرتا تھا ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمہیں کیا پتہ ؟ کہ اس کی نماز نے اسے کہاں تک پہنچا دیا ہے ؟ “ پھر اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی : ” نماز کی مثال ، اس نہر کی مانند ہے ، جو کسی شخص کے دروازے کے پاس سے گزرتی ہے ، وہ میٹھے اور صاف پانی کی نہر ہوتی ہے ، وہ شخص اُس میں پانچ مرتبہ ڈبکی لگاتا ہے ، تو کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ اس کا میل باقی رہ گیا ہو گا ؟ “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اُس کے بعد ، دوسرے بھائی کو ، چالیس دن تک مزید زندگی ملی “ ۔ امام أحمد کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1650
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح